اولمپکس: سہیل عباس پر نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقناطیسی کشش کے حامل کھلاڑیوں نے ہر دور میں پاکستان ہاکی کو حسن بخشا ہے۔ ستر کے عشرے میں پاکستان ہاکی ٹیم ستاروں کا جھرمٹ تھی تواس کے بعد دنیا نے حسن سردار کی سحرانگیزی دیکھی۔ شہباز احمد آخری سپراسٹار تھے جس کے بعد پاکستان ہاکی بڑے نام کو ترستی رہی لیکن اب اسے ایک اور سپراسٹار میسرآگیا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے جب وہ گول کرتا ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم گیارہ کھلاڑیوں کے کھیل میں اس وقت بجاطور پر سہیل عباس کے ون مین شو کے زیراثر ہے جس کی جیت کا بڑا انحصار پنالٹی کارنرز کے حصول اور ان پر سہیل عباس کے کئے گئے گول پر ہوتا ہے لیکن آج وہ جس مقام پر ہیں اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ ان کا کریئر جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پنالٹی کارنر پر مہارت کا اعتراف کیے جانے کے باوجود سہیل عباس کو محض اس اعتراض کے ساتھ مسترد کیا جاتا رہا کہ وہ اچھے دفاعی کھلاڑی نہیں ہیں۔ اسی اعتراض کے سبب انہیں 1997 کے جونیئر عالمی کپ کی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا اور اگلے سال کامن ویلتھ گیمز کے لئے بھی درخوراعتنا نہ سمجھاگیا۔ لیکن سہیل عباس نے اپنی محنت سے اپنے ناقدین کو خاموش کرادیا اور پنالٹی کارنر پر گول کرنے کا فرض نبھانے کے ساتھ ساتھ ٹیم کے دفاع میں بھی موثر ثابت ہوئے۔آج وہ بجا طور پر فتح گر کھلاڑی کے طور پر پاکستان کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ ایتھنز اولمپکس میں بھی پاکستان ہاکی ٹیم کی آس سہیل عباس سے بندھی ہوئی ہے۔27سالہ سہیل عباس کو بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ان کے شانوں پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور پوری پاکستانی قوم ان سے بے پناہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ سہیل عباس کہتے ہیں کہ انہیں اندازہ ہے کہ حریف ٹیمیں انہیں ٹارگیٹ بنائے ہوئے ہیں لہذا کوچ رولینٹ آلٹمینز نے مختلف ڈرلز کرائی ہیں جنہیں ایتھنز اولمپکس میں ہی سامنے لایا جائے گا۔ سہیل عباس یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دیگرکھلاڑیوں کے مقابلے میں ان پر پریشر زیادہ ہے ان کا کہنا ہے کہ پریشر تو پوری ٹیم پر ہوتا ہے لیکن قوم کی توقعات پنالٹی کارنر پر گول کرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ حالانکہ پنالٹی کارنر پر گول کرنے کا کریڈٹ وہ تنہا نہیں لے سکتے۔ گیند پھینکنے اور روکنے والے کھلاڑیوں کو بھی گول کا برابر کریڈٹ جاتا ہے اور پریشر بھی ان تینوں پر برابر ہوتا ہے۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ فیلڈ میں جذباتی نہ ہوں اور دباؤ کو حریف ٹیم کی طرف منتقل کردیں۔ سہیل عباس پنالٹی کارنر روکنے کے لیے دفاعی کھلاڑی کے بھاگنے کے بارے میں نئے قانون کو اپنے لیے فائدہ مند نہیں سمجھتے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا فائدہ ایشیائی ٹیموں کو نہں بلکہ یورپی ٹیموں کو ہی پہنچے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنالٹی کارنر پر گول کرنے سے روکنے والے دفاعی کھلاڑی زیادہ تر ایشیائی ٹیموں کے پاس ہیں لہذا یورپی ٹیموں کی مشکل مزید آسان ہوجائے گی کیونکہ پنالٹی کارنر کے وقت ان کے ایک سے زائد کھلاڑی پنالٹی کارنر کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں اس کا فائدہ انہی کو ملے گا۔ سہیل عباس نے پنالٹی کارنر پر گول کرنے کے سلسلے میں ماضی اور موجودہ دور کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ستر کے عشرے میں پنالٹی کارنر کو ڈی میں روکا جاتاتھا اور کہیں بھی ہٹ لگاکر گول کیا جاسکتا تھا لیکن اب ہاکی بہت تیز اور مشکل ہوگئی ہے۔ سہیل عباس کو شہرت بہت اچھی لگتی ہے لیکن ان کی انکساری میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ وہ اپنے دل کی بات یوں بیان کرتے ہیں’ شہرت اچھی لگتی ہے لیکن عزت کے ساتھ ، لوگ آٹوگراف لیتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے لیکن جب ٹیم ہارتی ہے تو لوگوں کے رویے میں یکایک تبدیلی آجاتی ہے۔‘ وہ قوم سے توقع کرتے ہیں کہ جب ٹیم مشکل میں ہو تب بھی وہ اسی طرح پیار کریں اور کھلاڑیوں کا ساتھ دیں کیونکہ جو ہارتا ہے وہ کامیابی سے بھی ہمکنار ہوتاہے۔ سہیل عباس انفرادی ریکارڈ کے بجائے ٹیم کی کامیابی کو اولیت دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے گول پاکستان کی جیت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم وہ وقت دور نہیں جب سہیل عباس انٹرنیشنل ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے کے عالمی ریکارڈ کے مالک بن جائیں گے جو اسوقت ہالینڈ کے عالمی شہرت یافتہ پنالٹی کارنرایکسپرٹ پال لٹجنس کے نام ہے جنہوں نے 267 گول کئے ہیں۔ سہیل عباس کے گول کی تعداد 250 ہوگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||