BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 April, 2005, 19:30 GMT 00:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرد اور عورتین الگ الگ

مراتھن
ایم ایم اے مراتھن کے معاملے کو بھی مشرف کے خلاف احتجاج کو بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا چاہے گی
حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مراتھن دوڑ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہونگی اور مرد اور خواتین الگ الگ دوڑیں گے اور یہ مراتھن دوڑ سٹڈیم کے اندر ہونگی۔

حکومت پنجاب نے ایک بیان جاری میں کہا ہے کہ تحصیل اور ناظمین کی سطح پر جو ناظمین خواتین کے درمیان مراتھن اور دیگر کھیلوں کے مقابلے کروانا چاہتے ہیں وہ پروگرام کے مطابق مقابلے منعقد کریں۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان مقابلوں کو مکمل تحفظ دے گی اور گڑبڑ کرنے والے عناصر سے سختی کے ساتھ نمٹے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مراتھن کے معاملے میں ترمیم کی ہے اور مرد اور خواتین کی ریس الگ الگ کرنے کے لیے کہا ہے۔

اس سے پہلے لاہور میں میراتھن دوڑمنقعد ہو چکی ہے جبکہ گوجرانوالہ کی دوڑ مبینہ طور پر متحدہ مجلس عمل کے احتجاج کے باعث منعقد نہیں ہو سکی۔ گوجرانوالہ میں ریس کے مخالفین کو خواتین کے مردوں کے ساتھ دوڑنے پر اعتراض تھا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی کوبتایا کہ خواتین اور مردوں کی الگ الگ دوڑ کا فیصلہ پہلے سے کر لیا گیا تھا اور اس فیصلے کا مجلس عمل کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اب یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ میرا تھن سڑکوں کی بجائے سٹڈیم کے اندر ہونگی۔

پنجاب میں مخلتف ضلعی ناظمین اپنی اپنی سطح پر مراتھن کروانے کے اعلانات کر چکے ہیں۔

سرگودھا کے ڈائریکٹر سپورٹس مہر رشید نے کہا ہے کہ سرگودھا کی مراتھن آٹھ اپریل کو صبح آٹھ بجے ہی ہوگی لیکن مرد الگ اور خواتین الگ دوڑیں گی ان کا کہنا تھا کہ ابھی میرا تھن کے روٹ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

پنجاب حکومت تقریباً دو ماہ پہلے لاہور میں ایک بین الاقوامی مراتھن کروا چکی ہے جس میں مرد و خواتین، میرا تھن کی روایت کے مطابق، ساتھ ساتھ دوڑے تھے۔

دوسری مراتھن گوجرانوالہ میں ہوئی جس میں مرد اور خواتین ایک ہی ٹریک پر دوڑے لیکن مردوں کی دوڑ شروع ہونے اور خواتین کی دوڑ شروع ہونے میں چند منٹ کا فرق تھا۔لیکن اس پر مجلس عمل کے کارکنوں مبینہ طور پر حملہ کر دیا تھا اور دوڑ نہیں ہو سکی تھی۔

مجلس عمل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرا تھن میں مردوں اور عورتوں کے ایک ساتھ دوڑنے کے خلاف ہیں۔

گوجرانوالہ کے واقعے کے بعد میراتھن میں خواتین کی شمولیت کے بارے میں ایک بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ ایک قرارداد میں مراتھن پر حملہ کو دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے تو مجلس عمل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں کی مشترکہ ہر مراتھن میں اسی طرح احتجاج کریں گے جس طرح گوجرانوالہ کی میرا تھن میں کیا گیا تھا اور اگر حکومت میرا تھن کے انعقاد سے باز نہیں آئی تو پھر اس احتجاج میں شدت آتی چلی جائے گی۔

پولیس نے حملہ آورں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج کراکے درجنوں کو گرفتار کرلیا تھااس واقعہ کے بعد منگل کو قومی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ جس میں کہا گیا تھا کہ سرگودھا مراتھن میں خواتین کی شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ادھر مجلس عمل کا ایک مشاورتی اجلاس آج لاہور میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجلس عمل گوجرانوالہ میں میرا تھن ریس کے موقع پر ہونے والے تصادم اور دو اپریل کی ہڑتال کے موقع پر ہونے والے پولیس آپریشن کے خلاف جمعہ کو یوم احتجاج منائے گی اور سولہ اپریل کو حکومت کے خلاف گوجرانوالہ سے لاہور تک ایک عوامی ریلی نکالی جائے گی۔

مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کل لاہور میں مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں حکومت مخالف تحریک کے آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد مجلس عمل کی قیادت لاہور کے کیمپ جیل جائے گی اور مجلس عمل کے گرفتار کارکنوں سے ملاقات کرے گی اس کے علاوہ ملک بھر کی جیلوں میں قید مجلس عمل کے کارکنوں سے ملاقات کے لیے قائدین کے مختلف وفد جیلوں کے دورے کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجلس عمل نے لاہور میں ہونے والی مراتھن پر بھی احتجاج کیا تھا لیکن گوجرانوالہ میں ہونے والی مراتھن میں یہ احتجاج میں شدت اختیار کر گیا تھا اور آئندہ مزید شدت آسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد