’دوڑ میرے لاہور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو لاہور میں پاکستان کی پہلی میراتھن ہوگی جس میں دس ہزار سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع ہے اور سولہ مختلف ممالک سے ساٹھ سے زیادہ مرد اور عورتیں اس میراتھن میں حصہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ میراتھن چھ کلومیٹر ، دس کلومیٹر اور بیالیس کلومیٹر کی الگ الگ دوڑ پر مشتمل ہوگی اور ہر دوڑ قذافی اسٹیڈیم سے شروع ہوکر مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی وہیں پر ختم ہوگی۔ جمعہ کی شام تک چھ ہزار افرد میراتھن میں شرکت کے لیے خود کو رجسٹرڈ کروا چکے تھے۔ بیرون ملک سے آنے والوں میں روس ، بھارت اور ڈنمارک کے باشندے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں کے سات ہزار بچے بھی دوڑ میں حصہ لیں گے۔ لاہور کی ضلعی حکومت نے میراتھن کے راستوں سے تجاوزات ہٹائی ہیں ، ٹریفک سگنلوں کو رنگ و روغن کیا گیا ہے اور بعض سڑکوں کو دھویا بھی گیا ہے۔ ان دو دنوں میں شہر میں پتنگ بازی ممنوع کردی گئی ہے اور پتنگ فروشوں کی دکانیں بند کردی گئی ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر میراتھن کے بینرز لگے ہیں اور اس دوڑ کے سپانسر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ملازمین نے سفید شرٹیں پہنی ہوئی ہیں جن کے پیچھے لکھا ہے دوڑ میرے لاہور۔ وزیرِاعلیٰ کی میراتھن کے لیے بنائی جانے والی ٹاسک فورس کے چئیرمین غوث اکبر کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر سید کرمانی نے بھی اس میراتھن میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی نژاد پچانوے سالہ برطانوی شہری فوجا سنگھ بھی اس دوڑ میں شریک ہورہا ہے۔ ٹریفک پولیس نے میراتھن راستوں کے لیے مخصوص کی گئی شہر کی چھ بڑی سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے صبح نو بجے سے سہ پہر تین بجے تک کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان سڑکوں میں فیروز پور روڈ ، دی مال، لوئر مال وغیرہ شامل ہیں۔ ان سڑکوں پر میراتھن سے ایک روز پہلے ہی رکشوں اور ریڑھیوں کا جانا ممنوع کردیا گیا ہے۔ دوسری طرف پولیس نے میراتھن کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور سینئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس (آپریشن) آفتاب چیمہ کا کہنا ہے کہ دوڑ کی نگرانی کے لیے پانچ ہزار پولیس نفری تعینات کی جائے گی اور دو کنٹرول روم بنائے جائیں گے۔ان راستوں پر دو روز کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کردیا گیا ہے۔ میراتھن کے منتظمین کے مطابق اب تک تقریبا دو سو خواتین بھی اس دوڑ میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کراچکی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ نے میراتھن میں عورتوں کی شرکت کے خلاف ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام عورتوں اور مردوں کے اختلاط کی ممانعت کرتا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قوم کی جوان بیٹیوں کو مردوں کے شانہ بشانہ دوڑنے پر مجبور کرنا اسلام، پاکستان کے آئین اور پاکستان کی ثقافت سے متصادم ہے اور عورت کا استحصال ہے۔ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وہ میراتھن کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن اسے صرف مردوں کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور اگر اس مرحلہ پر فوری طور پر عورتوں کو شرکت سے روکنا ممکن نہیں تو ان کے لیے الگ دن اور راستہ مقرر کیا جائے۔ دوسری طرف صدر جنرل پرویزمشرف نے پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہیٰ کی طرف سے دوڑ میں حصہ لینے والے افراد کے اعزاز میں جمعہ کی رات دیے گئے ایک عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میراتھن دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر بنائے گی اور یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان ہر قسم کی انتہاپسندی اور بنیاد پرستی کے خلاف ہے۔ صدرمشرف نے کہا کہ پاکستان کا تشخص ایک جدید اسلامی مملکت کے طور پر اجاگر کیا جائے جو آرٹس ، کلچر اور کھیلوں کے فروغ میں یقین رکھتا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی لاہور میں پچیس ملکوں کی کار ریسنگ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||