پولا ریڈکلف کو کس نے ہرا دیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپکس کھیلوں میں یوں تو ہزاروں قسم کے ڈرامے دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ان کھیلوں کے نویں دن خواتین کے میراتھن مقابلے میں جو ہوا وہ اپنی جگہ انتہائی منفرد تھا۔ بیالیس کیلومیٹر کےاس مقابلے کی سب سے مضبوط دعویدار تصور کی جانے والی برطانیہ کی پولا ریڈکلف 36 کیلو میٹر کے نشان پر پہنچتے ہی ہمت ہار بیٹھیں اور انہوں نے مزید دوڑنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں جب انہوں نے دوبارہ دوڑنے کا عزم کیا تو بہت دیر ہو چکی تھی، جاپان کی میگوچی ناگوچی دو گھنٹے اور چھبیس منٹ میں میراتھن جیت کر گولڈ میڈل پر قابض ہو چکی تھیں جبکہ کینیا کی کیتھرین انڈریبا نے چاندی اور ایتھوپیا کی الفینیش ایلوما نے کانسی کے تمغے پر اپنا حق جما لیا تھا۔ میراتھن کے درمیان میں ہی رک جانےکا غم ان کے چہرے پر صاف عیاں تھا، وہ زارو قطار رو رہی تھیں۔ اور آخر ایسا ہو بھی کیوں نہ۔ اس سال کے اولمپکس میں خواتین کے بیالیس کیلومیٹر کے میراتھن مقابلے کے چیمپیئن کے بارے میں نہ صرف برطانیہ کو بلکہ پوری دنیا میں شاید ہی کسی کو کوئی شک تھا۔ پچھلے دو سالوں میں برطانیہ کی انتیس سالہ پولا ریڈکلیف نے بین الاقوامی سطح پر جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس کو دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا تھا کہ اس سال اولمپکس کے خواتین کے میراتھن مقابلے کا نتیجہ محض خانہ پری کے لئے ہوگا۔ لندن میں منعقد ہونے والی سالانہ میراتھن کی گزشتہ ریس پولا نے دو گھنٹے اور بیس منٹ میں مکمل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد دیگر عالمی چیمپیئن شپ میں بھی اپنی اجارہ داری برقرار رکھی۔ لیکن اس اولمپکس میں ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے خواتین کا میراتھن مقابلہ الٹ پھیر کا شکار ہو گیا؟ جبکہ یونان میں یہ وقت موسم گرما کا ہوتا ہے اور ایتھلیٹس کی تو چھوڑئے لندن سے یہاں پہنچنے والے مجھ جیسے صحافیوں کے لئے بھی ایتھنز میں دھوپ کی تمازت برداشت کرنا ان دنوں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پھر ان بیچارے ایتھلیٹس کو تو اللہ جانے کس کس طرح کی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے۔ واپس خواتین کے میراتھن کی جانب لوٹتے ہیں۔ جب تک یہ خواتین ایتھلیٹس ایتھنز کے باہر تھیں یہ ترو تازہ لگ رہی تھیں کیوں کہ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے ان کی تکان میں تاخیر کا باعث بن رہے تھے۔ تاہم بتیس کیلو میٹر کے بعد ایتھنز کے اندر داخل ہوتے ہی پولا سمیت کئی دیگر ایتھلیٹس کے چہروں پریشانی جھلکنے لگی۔ بتیس کیلومیٹر تک پولا مستقل آگے چل رہی تھیں لیکن شہر میں داخل ہوتے ہیں پہلے ناگوچی ان سے آگے نکلیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اینڈریبا نے بھی پولا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہاں میں آپ کو بتادوں کہ ہندوستان اور پاکستان کی طرح ایتھنز میں بھی دو عمارتوں کے درمیان زیادہ جگہ نہیں ہوتی لہذا ہوا کی آمد بھی کھلے علاقوں کے مقابلے میں مشکل ہو جاتی ہے۔ چونکہ ایتھوپیا اور کینیا ویسے ہی گرم ممالک ہیں لہذا اینڈریبا اور ایلوما جیسی ایتھلیٹس کے لئے گرمی میں دوڑنا کوئی نئی بات نہیں۔ اگر اولمپکس لندن میں ہو اور انہی ایتھلیٹس کو میراتھن کے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے کہا جائے تو یہ بعید از قیاس نہیں کہ پولا ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر دیں اور یہ تب ممکن ہوگا جب لندن کو دو ہزار بارہ کے اولمپکس کی میزبانی کا حق مل جائے۔ لیکن کیا پتہ اس وقت تک پولا خواتین کے میراتھن مقابلے کو خیر بار کہہ چکی ہوں۔ اس دوڑ کا اختتام ایتھنز کے پائیناتھی ناکوس اسٹیڈیم میں ہوا جہاں اٹھارہ سو چھیانوے میں پہلی بار جدید اومپکس کا انعقاد ہوا تھا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||