دِلّی میں تیرھویں ہاف میراتھن ریس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پہلی بار ہونے والی مردوں کی ورلڈ ہاف میراتھن چمپیئن شپ کا مقابلہ کینیا کے ایتھلیٹ پال کروئی نے جیتا جبکہ خواتین کے مقابلے میں چین کی 27 سالہ ایتھلیٹ انگ جی سن کامیاب رہیں۔ چوبیس برس کے پال کروئی نے چمپیئن شپ میں حصہ لینے والے تنزانیہ کے اہم ایتھلیٹ جوزف فیبیانو کو پیچھے چھوڑ کر 21 کلومیٹر کی دوڑ ایک گھنٹہ دو منٹ پندرہ سکینڈ میں مکمل کی اور پہلے نمبر پر رہے۔ جوزف فیبیانو نے یہ فاصلہ پال کروئی کے مقابلے میں سولہ سکینڈ دیر سے طے کیا اور اس بار بھی وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ قطر کے ایتھلیٹ احمد عبداللہ دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ وہ حسن فیبیانو سے صرف پانچ سکینڈ پیچھے تھے۔ خواتین کی دوڑ میں چین کی ایتھلیٹ انگ جی سن نے مقررہ فاصلہ ایک گھنٹہ آٹھ منٹ چالیس سکینڈ میں مکمل کر کے سونے کا تمغہ حاصل کیا جبکہ کینیا کی لیڈیہ چیرومی یہ فاصلہ ایک گھنٹہ نو منٹ میں طے کر کے دوسرے نمبر پر رہیں۔ رومانیہ کی ایتھلیٹ ٹومیسکو ڈیٹہ نے اس مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ورلڈ ہاف مراتھن دوڑ میں ٹیم کے اعتبار سے مردوں کے مقابلوں میں افریقی ٹیموں کا غلبہ رہا۔ کینیا نے پہلی پوزیشن حاصل کی، ایتھوپیا نے دوسری اور یوگینڈا تیسرے نمبر پر رہا۔ خواتین کے مقابلوں میں ایتھوپیا پہلے نمبر پر رہا جبکہ رومانیہ اور روس بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ میراتھن دوڑ میں بیالیس کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ لیکن نئی دِلّی میں ہونے والی یہ عالمی نصف میراتھون دوڑ تھی جس میں صرف اکیس کلو میٹر کی دوری طے کرنی تھی۔ اس کا اہتمام ’انڈین ایمیچور ایتھلیٹک فیڈریشن‘ نے کیا تھا۔ دنیا کی یہ تیرھویں ورلڈ ہاف میراتھون چمپیئن شپ تھی اور کسی بھی ایشیائی ملک میں پہلی بار اس طرح کی میراتھون دوڑ کا انعقاد کیا گیا ہے جس کے لیے سخت حفاظتی بندوبست کیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||