الوداع اولمپکس 2004 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھنز میں اولمپکس 2004 ایک زبردست اختتامی تقریب کے بعد ختم ہو چکی ہے۔ بڑے سٹیڈیم کو بالکل ایک گندم کا کھیت بنا دیا گیا تھا اور چاروں طرف گندم پھیلا دی گئی تھی جہاں روایتی یونانی ڈانس اور گانے گائے۔ اور اس کے بعد اولمپس کے شعلے کو بجھا دیا گیا۔ اب اولمپکس کی مشعل بیجنگ کے حوالے کر دی گئی ہے جہاں 2008 میں اب یہ کھیلیں منعقد ہوں گی۔
باوجود اولمپکس سے قبل سکیورٹی کے خدشات کے ایتھنز میں ہونے والی کھیلوں کو ایک کامیابی کہا گیا ہے۔ بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے صدر جیکویز راگ نے کہا کہ ’شہر (ایتھنز) جیت گیا ہے‘۔ ایتھنز کھیلوں کی سربراہ جیانا اینجلوپولوس نے کہا ’اولمپکس (ہمارے) گھر آئی اور ہم نے پوری دنیا کو بتایا کہ یونانی بہت کچھ کر سکتے ہیں‘۔ اولمپکس کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ’ کھیلیں کامیاب ترین تھیں‘۔ لیکن کھیلوں کے آخری دن کے آخری ایونٹ میں بدمزگی اس وقت ہو گئی جب میراتھن ریس میں سب سے آگے دوڑتے ہوئے برازیل کے واندیرلائی دی لما کو ایک شخص نے دکھا دے دیا۔ ابھی ریس ختم ہونے میں چار میل باقی تھے۔ لیکن اس کے بعد اٹلی کے سٹیفانو بالدینی دی لیما سے آگے نکل گئے اور سونے کا تمغہ جیت گئے۔ چاندی کا تمغہ امریکہ کے کیفلیزغی کے حصے میں آیا جبکہ دی لیما کو کانسی کا تمغہ ملا۔ اس شخص کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ وہ شخص ایک مذہبی بینر اٹھائے ہوئے تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہ شخص ہی ہے جس نے گزشتہ برس برٹش گرینڈ پری کے دوران بھی بدمزگی پیدا کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||