BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 March, 2005, 21:39 GMT 02:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پڑھا لکھا پنجاب مہم پر احتجاج

پڑھا لکھا پنجاب
پڑھا لکھا پنجاب کی مہم کے لیے تیار کیے جانے والے پوسٹر
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں سے ’ہمارا خواب پڑھا لکھا پنجاب، کے عنوان سے جاری اشتہاری مہم کے خلاف حکومت اور حزب مخالف کے اراکین نے مل کر احتجاج کیا اور پنجاب کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی۔

حکومتی اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی ’پیٹریاٹ، اور حکمران مسلم لیگ کے اراکین نے جب صوبائی حکومت کی اس مہم پر تنقید کی تو حزب مخالف کے اراکین نے بھی اس مہم کو فراڈ قرار دیتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے حکومتی اراکین کی اس معاملے میں حمایت کی۔

پنجاب حکومت کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں سے جاری اس اشتہاری مہم کے دوران پاکستان کے بیشتر اخبارات میں جہاں آدھے صفحات کے رنگین اشتہارات شائع کرائے ہیں وہاں سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو سٹیشنز سے بھی یہ اشتہارات نشر کیے جارہے ہیں۔

پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ تعلیمی اصلاحات اور اس مہم کے تحت طلبا کو مفت کتابیں فراہم کی جارہی ہیں اور طالبات کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسی سہولیات کے بعد صوبے بھر میں نو لاکھ طلبا وطالبات کا سکولوں میں اندراج ہوا ہے۔

حکمران مسلم لیگ کے ریاض پیرزادہ، رشید اکبر خان، فاروق اعظم اور دیگر نے ’پڑھا لکھا پنجاب، کی اشتہاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقوں میں کئی سکول ایسے ہیں جن میں فرنیچر اور اساتذہ تک نہیں ہیں اور اس مہم کا کوئی ان کے حلقوں میں فائدہ نہیں ہوا۔

حزب مخالف کے اراکین زمرد خان اور ثمینہ خالد گھرکی سمیت دیگر کا دعویٰ تھا کہ پنجاب کے دور دراز شہر تو دور کی بات لیکن راولپنڈی اور لاہور میں بھی کافی تعداد میں سکول ایسے ہیں جن میں بیٹھنے کے لیے فرنیچر نہیں ہے اور اساتذہ بھی نہیں ہیں۔

بدھ کے روز وقفہ سوالات کے دوران وزارت تعلیم کے متعلق سوالات کے جواب جب پارلیمانی سیکریٹری دیوان جعفر حسین نے دیے تو حکمران مسلم لیگ کے رکن رشید اکبر خان نے اعتراض کیا کہ اس وزارت کے وفاقی اور مملکتی وزراء بنائے گئے ہیں تو وہ ایوان میں اتنے اہم مسئلے پر جواب دینے کے لیے کیوں موجود نہیں؟

اس پر جہاں کچھ حکومتی اراکین نے احتجاج کیا وہاں حزب اختلاف کے اراکین نے بھی سخت اعتراض کیے اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔ حزب مخالف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے اس موقع پر آغا خان تعلیمی بورڈ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ایڈز کے بارے میں مہم کے سلسلے میں نویں سے گیارہویں جماعت کے طلبا وطالبات سے جنسی تعلقات کے متعلق سوالات پر مبنی ایک سروے کیا جارہا ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری نے سختی سے وضاحت کی کہ اس سوال نامے سے آغا خان بورڈ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ سوال نامہ اقوام متحدہ کے صحت کے متعلق ادارے نے تیار کیا تھا اور وزارت صحت کی منظوری کے بعد سوال نامہ جاری کیا گیا جو پتہ چلتے ہی حکومت نے واپس لے لیا۔

اس پر مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد نے پارلیمانی سیکریٹری پر غلط معلومات دینے کا الزام لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ حزب مخالف کے دوسرے اتحاد اے آر ڈی میں شامل جماعت، مسلم لیگ نواز نے تو ان کا ساتھ دیا لیکن اس اتحاد کی دوسری جماعت پیپلز پارٹی نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔

مجلس عمل نے پندرہ مارچ کو فوجی پریڈ کی ریہرسل کے بارے میں اراکین کو اجلاس میں شرکت سے روکنے کے متعلق تحریک استحقاق پیش کرنے کے موقع پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بھی واک آؤٹ کیا اور پیپلز پارٹی نے اس میں بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد