BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 July, 2004, 07:03 GMT 12:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیرہ سالہ قومی سکواش چیمپین

ماریہ طورپکئی
ماریہ ایک درمیانے طبقے کے پشتون گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں
احمدزئی وزیر قبیلے کا ذکر آج کل خبروں میں تو القاعدہ اور طالبان کی وجہ سے بہت ہو رہا ہے لیکن اسی قبیلے نے پاکستان کو اس کی سکواش کی تاریخ کی سب سے کم عمر خاتون قومی چمپین ماریہ طورپکئی بھی دی ہے۔

اگرچہ کراچی میں گزشتہ ہفتے قومی اعزاز باآسانی جیتنے کی ایک وجہ کارلا خان جیسی سینیر کھلاڑیوں کی غیرموجودگی قرار دی جا سکتی ہے لیکن تیرا سالہ قومی چیمپین کو اس کی فکر نہیں۔ انہیں فکر ہے تو آنے والے معرکوں کی، نیپال میں ایشین چیمپین شپ کی اور پاکستان کو گولڈ میڈل دلانے کی۔

صوبہ سرحد کے ایف آر بنوں علاقے سے تعلق رکھنے والی ماریہ کو سکواش کی تنظیموں سے سخت شکایات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک لڑکی اور پھر ایسے علاقے سے جہاں عورتوں کے کھیل کود میں شرکت کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ان تنظیموں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان جیسی کھلاڑیوں کی ہر طرح سے بھرپور امداد کریں۔

ماریہ ایک درمیانے طبقے کے پشتون گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد شمس القیوم پولی ٹیکنیکل سینٹر میں آٹو انسٹرکٹر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماریہ بچپن سے لڑکوں کا لباس پہنتی رہی ہیں اور غصے کی بہت تیز ہیں۔ ’وہ ہمیشہ گلی محلے میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی اور لڑتی تھی۔‘

ماریہ
ان کے والد نے اسے پہلے ویٹ لیفٹنگ کا کھیل اپنانے کے لیے کہا اور ایک کوچ کے ذریعے اس کی تربیت کا انتظام کیا۔ اس کوچ کو بھی نہیں معلوم تھا کہ ماریہ لڑکی ہے لہذا اس نے انہیں پنجاب میں لڑکوں کے ویٹ لیفٹنگ کے ایک مقابلے میں چنگیز خان کے نام سے شریک کرایا۔ ماریہ نے اس مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ ’بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اسے اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے سکواش کا کھیل بہتر رہے گا جس میں وہ اپنا تمام تر غصہ گیند پر اتار سکے گی۔‘

اس کے بعد سے صرف دو برسوں میں اس مردوں کے سمجھے جانے والے کھیل میں ماریہ نے کئی اعزازات حاصل کیے۔ وہ انڈر 13 اور انڈر 15 کے مقابلے جیتنے کے علاوہ سیف گیمز میں سلور میڈل بھی حاصل کر چکی ہیں۔ وہ روزانہ چار پانچ گھنٹے پریکٹس کرتی ہیں۔

وہ اپنی کامیابیوں کا ذمہ دار اپنے کوچ ناصر حسین اور والدین کو قرار دیتی ہیں۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ اپنی لڑکی کو اس طرح کھیل میں متعارف کروانے کی وجہ سے لوگوں نے انہیں بے غیرت ہونے جیسے طعنے بھی دیئے لیکن وہ ان سے متاثر نہیں ہوئے۔ ’اگر میری لڑکیوں میں ٹیلنٹ ہے تو میں کون ہوتا ہوں انہیں منع کرنے والا۔‘

ان کی ایک دوسری بیٹی گلالئی پشاور ٹی وی سے خبریں بھی پیش کرتی ہیں۔

ان کے کوچ ناصر حسین سے پوچھا کہ ماریہ میں کون سی خامیاں وہ دیکھتے ہیں جن پر قابو پانے سے وہ اپنے کھیل میں مزید نکھار لا سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے وزن اور سٹیمنا پر نظر رکھنی ہوگی۔ ’اگر یہ دو چیزیں قابو میں آجائیں تو اسے کوئی بھی عالمی کھلاڑی بننے سے نہیں روک سکتا۔‘

ناصر پرامید ہیں کہ اگر مناسب تربیت جاری رہی تو ماریہ ایشین ٹائٹل بھی باآسانی جیت سکتی ہیں۔

صوبہ سرحد جسں نے اب تک ہاشم خان، روشن خان، جہانگیر خان، قمر زمان اور جان شیر خان جیسے سکواش کے عالمی چیمپین پیدا کیے اب اس کھیل میں خواتین کھلاڑی بھی پیدا کر رہا ہے۔ لیکن اس کی اصل وجہ سرکاری سرپرستی نہ پہلے رہی ہے اور نہ اب۔ ذاتی کوششیں ہی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد