BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2004, 09:41 GMT 14:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جونیئر سکواش میں کامیابیاں

برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ کو پاکستان کے نقطۂ نظر سے کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شیفیلڈ انگلینڈ میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پاکستان انڈر 19 اور انڈر 17 ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکامیاب رہا البتہ اس نے انڈر 15 اور انڈر 13 ایونٹس میں کامیابیاں حاصل کیں۔

انڈر 19 ایونٹ میں پاکستان کے خالد اطلس ٹاپ سیڈ تھے لیکن انہیں کوارٹرفائنل ہی میں مصر کے محمود عادل السعید کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ایونٹ میں شریک ایک اور پاکستانی کھلاڑی باسط اشفاق اپنے ہم وطن یاسر بٹ کو تیسرے راؤنڈ میں ہرانے کے بعد کوارٹر فائنل میں میکسیکو کے جوز اینجل بیسیرل کو ہرانے میں ناکام رہے۔

اس طرح پاکستان جس نے گزشتہ سال سفیرخان کے ذریعے برٹش اوپن جونیئر ٹائٹل جیتا تھا اس مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی سے بھی محروم رہا۔ انڈر 19 ایونٹ کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ پاکستانی اور مصری طوفان کے ہوتے ہوئے بھارت نے چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ بھارت کے سورو گھوسل نے فائنل میں محمود السعید کو شکست دی۔ انڈر 17 ایونٹ گزشتہ سال پاکستان کے فرحان محبوب نے جیتا تھا لیکن وہ اپنے اعزاز کے دفاع میں کامیاب نہ ہوسکے اور انہیں فائنل میں مصر کے عمر زید نے ہرادیا۔ فرحان محبوب کے چھوٹے بھائی وقار محبوب ان سے بازی لے گئے اور انہوں نے انڈر 13 ایونٹ کے فائنل میں مصر کے عادل زرقا کو شکست دی جبکہ انڈر 15 مقابلوں کے فائنل میں پاکستان کے عامر اطلس مصر کے محمد ریدا کو زیر کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان سکواش فیڈریشن کے سیکرٹری ونگ کمانڈر ساجد وحید کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں: ’ہمیں انڈر 19 ایونٹ جیتنا چاہیئے تھا۔‘ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ برٹش اوپن جونیئر میں اس مرتبہ مصر کے اوور ایج ( زائد العمر) کھلاڑی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اوورایج کھلاڑیوں کے معاملے میں بہت بدنام کیا جاتا ہے لیکن برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں مصر نے تمام حدیں پھلانگ دیں۔ خالد اطلس کو ہرانے والا محمود عادل السعید کے پاسپورٹ پر عمر 18 سال درج تھی لیکن 6 فٹ 4 انچ طویل قامت وہ کھلاڑی کسی طور بھی انڈر 19 نہیں تھا، ونگ کمانڈر ساجد وحید کے مطابق انڈر 19 کے ڈراز انگلینڈ کے نمبر 2 سیڈ لارنس ڈیلاساکس کی آسانی کے لئے بنائے گئے تھے اور پاکستان کے کھلاڑیوں کو ایک ہی ہاف میں رکھا گیا۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ برٹش اوپن جونیئر کے مقابلے دیکھنے والے مبصرین نوجوان عامراطلس کے کھیل سے بہت متاثر ہوئے اور ان کاخیال ہے کہ اگر اس نوجوان کھلاڑی نے محنت جاری رکھی اور اسے بھرپور رہنمائی ملتی رہی تو وہ ایک دن ضرور ورلڈ کلاس کھلاڑی بنے گا۔ عامر اطلس کے چھوٹے بھائی دانش اطلس کو اگرچہ انڈر 13 ایونٹ کے کوارٹرفائنل میں شکست ہوئی لیکن اس نوجوان نے بھی روشن مستقبل کی نوید دی ہے۔

برٹش اوپن جونیئر میں اس سال پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کی ملی جلی کارکردگی قومی جونیئر کوچ رحمت خان کے لئے بھی اطمینان کا باعث نہیں ہوگی جو ابتک اپنے کھلاڑیوں کے ذریعے اچھے نتائج دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کی کوچنگ نے پاکستان کو 20 سال میں پہلی مرتبہ ورلڈ جونیئر ٹیم ٹائٹل مقابلوں میں کامیابی سے ہم کنار کیا اور پھر پاکستان نے گزشتہ سال کی برٹش اوپن جونیئر میں بھی قابل ذکر پرفارمنس دی۔ لیکن اس سال انڈر19 اور انڈر 17 مقابلوں کے اعزاز سے محرومی کے بعد رحمت خان بھی خود کو دباؤ میں محسوس کررہے ہونگے کیونکہ ان کی نظریں اس سال اگست میں پاکستان میں ہونے والی ورلڈ جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ پر مرکوز ہیں جس میں پاکستان کو عالمی اعزاز کا دفاع کرنا ہے اور وہ نہیں چاہیں گے کہ دوسال سے جاری ان کی سخت محنت رائیگاں جائے۔ اس کے لئے انہیں ایک مضبوط سکواڈ تشکیل دینا ہوگا جو ظاہر ہے کہ کم و بیش انہی کھلاڑیوں میں سے ترتیب دیا جائے گا جو برٹش اوپن جونیئر میں شریک تھے لیکن انہیں اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنے کے لئے غیرمعمولی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ آنے والے دن رحمت خان کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد