| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین سکواش کے بین الاقوامی مقابلے
پاکستان سکواش فیڈریشن نےآئندہ سال ملک میں خواتین سکواش کے دو انٹرنیشنل ٹورنامنٹس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ لباس کے معاملے میں مذہبی اور ثقافتی اقدار کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سکواش کی عالمی تنظیم ویمنز انٹرنیشنل سکواش پلیئرز ایسوسی ایشن (وسپا) نے تجاویز دی تھیں۔ تاہم اصل سوال یہ تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی سکواش ٹورنامنٹس منعقد ہونے کی صورت میں غیرملکی خواتین کھلاڑی کیسا لباس پہنیں گی۔ ونگ کمانڈر ساجد وحید کے مطابق وسپا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اینڈریو شیلے نے جو مارچ میں پاکستان آئیں گے اس بار ے میں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان میں غیرملکی خواتین کھلاڑی مذہبی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لباس پہنیں گی۔ واضح رہے کہ عام طور پر سکواش کھلاڑی ٹی شرٹس کے ساتھ نیکر (شارٹس) پہنتی ہیں جبکہ پاکستانی کھلاڑی ٹراؤزر پہن کر کھیلتی ہیں۔ مصر کی، جو اسلامی ملک ہے، کھلاڑی بھی انٹرنیشنل ڈریس کوڈ پر عمل کررہی ہیں۔ پاکستان میں خواتین سکواش کافی عرصے سے جاری ہے۔ پاکستان سکواش فیڈریشن ہرسال ویمنز سکواش کے متعدد ٹورنامنٹس قومی سطح پر منعقد کرتی ہے اور ان میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر قومی رینکنگ بھی مرتب کی جاتی ہے۔ پاکستان سکواش فیڈریشن نے انگلینڈ میں مقیم کارلا خان کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ کارلا خان سابق برٹش اوپن چیمپئن اعظم خان کی نواسی ہیں لیکن شہریت کے قوانین ان کے پاکستان کی طرف سے کھیلنے کی راہ میں آڑے آگئے ہیں اور انہیں پاکستان کی نمائندگی کے لئے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔ اگر پاکستانی لڑکیوں کا موازنہ دوسرے ممالک کی خواتین کھلاڑیوں سے کیا جائے تو صورتحال اتنی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کا معیار عالمی معیار سے بہت دور ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ماضی میں خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع ہی میسر نہ تھے۔ اس کے علاوہ لباس کی پابندی وغیرہ بھی کھلاڑیوں کی پرفارمنس میں آڑے رہی ہے۔ عالمی معیار کی کھلاڑیوں سے مقابلہ نہ ہونے کے سبب پاکستانی ویمنز کھلاڑی اپنے کھیل کو بلندی پر نہ لے جاسکیں اور ان کی سکواش صرف ملک میں کھیلے جانے والے قومی مقابلوں تک ہی محدود ہے۔ جب تک پاکستانی کھلاڑیوں کو دنیا کی صف اول کی کھلاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے مواقع نہیں ملیں گے ان کی کارکردگی کا گراف بلند نہیں ہوسکے گا۔ پاکستانی ویمنز کھلاڑی سیف گیمز میں بھی شرکت کررہی ہیں جس میں ان کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہے۔ بھارتی کھلاڑی باقاعدگی سے انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں اس لحاظ سے پاکستان سکواش فیڈریشن کا ملک میں بین الاقوامی مقابلوں کےانعقاد کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ہماری کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنے کھیل میں بہتری لاسکیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||