’داڑھی رکھ لیں،میں برقعہ اوڑھ لوں گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو پنجاب اسمبلی میں خواتین اراکین اسمبلی کو دوپٹہ اوڑھنے کی تلقین کرنے پر خاصا ہنگامہ رہا اور مرد اور خواتین ارکان میں خاصی دیر تک تکرار ہوتی رہی۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پارلیمانی سیکرٹری فرزانہ نذیر گردہ بیچنے کے معاملہ پر ایک تحریک التوا پر بات کررہی تھیں۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن مجاہد شاہ نے نکتہ اعتراض پر اسمبلی کی صدارت کرنے والے راۓ اعجاز (پینل چئیرمین ) سے کہا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور پارلیمانی سیکرٹری براۓ صحت فرزانہ نذیر ننگے سر کھڑے ہوکر بات کررہی ہیں اور دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا ہے۔ رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ اسلامی شعار ہے کہ دوپٹہ سر پر اوڑھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ خواتین ارکان اسمبلی کندھوں پر ڈال کر پھرتی ہیں انھیں کہا جاۓ کہ وہ سر پر دوپٹہ اوڑھیں۔ اس پر بہت سی خواتین ارکان اپنی نشستوں سے کھڑی ہوگئیں اور اونچا اونچا بولنے لگیں۔ وہ سپیکر سے بات کرنے کے لیے وقت چاہتی تھیں۔ سپیکر نے کہا کہ وہ مجاہد شاہ کے تبصرے کو کاروائی سےحذف کررہے ہیں جس پر متحدہ مجلس عمل کے رکن وقاص خان نے کہا کہ اس ایوان میں جو بے ہودہ باتیں ہوتی ہیں ان کو حذف نہیں کیا جاتا اور جو اسلامی شعائر کی بات کی گئی ہے تو اسے حذف کیا جارہا ہے۔ مجاہد شاہ ، جن کے تبصرے سے شور شرابہ مچا، کہنے لگے کہ انھوں نے کوئی گالی نہیں دی کہ ان کی بات کو حذف کیا جاۓ کیونکہ پردہ تو وہ معاملہ ہے کہ یورپ میں سکارف پر بات ہورہی ہے اور یہ کوئی یورپ کی اسمبلی نہیں کہ پردہ کی بات کو گالی سمجھا جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ خواتین ارکان چاہتی ہی کہ ان کا احترام کیاجاۓ تو پھر وہ اس کا انداز بھی اختیار کریں اور ایوان میں مسلمانوں کی طرح بیٹھا کریں۔ اس پر پارلیمانی سیکرٹری فرزانہ نذیر نے کہا کہ جس دن مجاہد شاہ سنت رسول کے مطابق داڑھی رکھ کر آئیں گے تو وہ برقعہ پہن کر اسمبلی میں آئیں گی۔ صوبائی وزیر تعلیم عمران مسعود نے کہا کہ مجاہد شاہ نے نازیبا بات کی ہے جس پر انھیں معافی مانگنی چاہیے۔ تاہم مجاہد شاہ نے کہا کہ ہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ انھوں نے اسلام کی بات کی ہے۔ ایک خاتون رکن اسمبلی پروین گل نے کہا کہ مجاہد شاہ کو یہ حق کس نہ دیا ہے کہ وہ خواتین ارکان کے دوپٹہ اوڑھنے کی بات کریں یہ حق تو صرف ان ارکان کے باپ، بھائی اور شوہروں کو حاصل ہے۔ سپیکر نے بحث کو بڑھتے دیکھ کر سب کو خاموش کرادیا اور دوسرے امور پر بحث شروع کرادی۔ پنجاب اسمبلی میں مرد ارکان کے خواتین ارکان پر تبصروں کی وجہ سے کئی بار خواتین سخت احتجاج کرچکی ہیں۔ ایسے موقعوں پر حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی خواتین متحد ہوجاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||