BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر جغرافیائی غیر تہذیبی زبان

 اردو
اگر تہذیب کی اساس جغرافیہ کو مان لیا جائے تو اردو ایک غیر جغرافیائی زبان ہے
اسلام آباد میں ہونے والی اردو کی بین الاقوامی کانفرنس کے اجلاسوں کے تمام تر موضوعات پُر شکوہ اور دور رس نظر کی عکاس تھے۔

افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے باقاعدہ اجلاس کا موضوع تھا: زبان اور تہذیب: ایک مکالمہ، اس عنوان سے مجھےکراچی میں کئی سال پہلے ہونے والی وہ عالمی کانفرنس یاد آئی جس کا موضوع تہذیبوں کے مابین مکالمہ تھا۔

گوئٹے انسٹیٹیوٹ کراچی کے تحت ہونے والی اس عالمی کانفرنس کا بنیادی مقصد تو بین التہذیب تصادمو ں کے اس تصور پر بحث کرانا تھا جو سیمول ہٹینگٹن نے پیش کیا تھا اور جس کی گونج صدر بش کی اس مختصر تقریر میں بھی سنائی دی تھی جو انہوں نے 11/9 کے فوراً بعد کی تھی اور جس کے کئی مظاہر اب عام سطح پر دکھائی دینے لگے ہیں۔

‏اس نوع کے مذاکرے اور مباحثے کیوں ہوتے اور کرائے جاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے جسے کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

اگر پوری اردو عالمی کانفرنس محض اس ایک موضوع پر ہوتی تو بھی شاید اس تمام محرکات و جزیات کا احاطہ نہ کر پاتی حالانکہ اس اجلاس میں اردو کے بہترین دماغوں نے اظہار خیال کیا۔

اس اجلاس کی نظامت کے فرائض حارث خلیق نے انجام دیے۔ ہمارے اس ادھیڑ عمر شاعر و دانشور کو اب خاصے لوگ جانتے پہچانتے ہیں اور اس میں ان کا ہی نہیں ان کے خاندان کا بھی تعلق ہے لیکن اجلاس کے مرکزی مقررین انتظار حسین اور گوپی چند نارنگ کو نہ جاننے کی بات کرنے والوں کے بارے میں تو پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا اردو پڑھنے لکھنے سے کوئی علاقہ نہیں ہو گا۔

کوزے کو سمندر کرنےوالے
سمندر کو کوزے میں بند کرنے والے تو بہت مل سکتے ہیں لیکن کوزے کو سمندر میں منقلب کرنے والے کم اور خال خال ہی ملتے ہں اور ہمارے ممدوح اس ہنر میں یکتا ہیں۔

سمندر کو کوزے میں بند کرنے والے تو بہت مل سکتے ہیں لیکن کوزے کو سمندر میں منقلب کرنے والے کم اور خال خال ہی ملتے ہں اور ہمارے ممدوح اس ہنر میں یکتا ہیں۔

مجھے اس اجلاس میں شریک اردو کے ایک ڈاکٹر کی اس رائے سے پورا اتفاق ہے کہ اس اجلاس کے مقررین نے شرکاء کے ذہنوں پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنے سے گریز کیا ورنہ تو زبان اور تہذیب کا رشتہ اردو کے حوالے جس نوع کی انفرادیت رکھتا ہے اس کا اطلاق کسی اور زبان پر نہیں کیا جا سکتا۔

اگر تہذیب کی اساس جغرافیہ کو مان لیا جائے تو اردو ایک غیر جغرافیائی زبان ہے اور اس حوالے سے غیر تہذیبی بھی تو اردو کانفرنس اور اس پر تہذیب و زبان کا مکالمہ چہ معنی دارد؟

انتظار حسین نے اس اجلاس میں شکایت کی کہ اردو کو انگریزی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے جیسے اردو، اردو نہ ہو کوئی رضیہ ہو جسے غنڈوں نے گھیر رکھا ہو لیکن ماضی بعید کے عشاق میں شامل انتظار حسین کے منہ سے یہ بات سجی نہیں اور اب تو خود انہیں بھی انگریزی نے گھیر رکھا ہے اور موجودہ دور میں اردو کا سب سے بڑا نہیں تو سب سے بڑے افسانہ نگاروں میں سے ایک ہوتے ہوئے بھی کوئی اردو اخبار ان کو وہ مقام دینے پر تیار نہیں جو انہیں انگریزی اخبار نے دیا ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا وہ اپنی انگریزی کو ہر ہفتے امتحان میں ڈالتے؟ ٹی وی پر انگریزی بولنے والوں کو شرف میزبانی اس لیے نہیں حاصل ہوتا کہ وہ انگریزی زیادہ بولتے ہیں بلکہ ٹی وی چینلوں کو شکایت ہے کہ اردو روانی سے بولنے والے میزبانوں کی علمی استعداد قدرے کم ہوتی ہے اور انہیں مارکیٹ میں اپنی پروجیکشن کا ہنر بھی نہیں آتا۔

انتظار حسین کا جواب گوپی چند نارنگ نے فوراً ہی دے دیا اور فرمایا کہ اردو کبھی اسٹیبلشمنٹ کی احسان مند نہیں ہوئی۔ اردو کی ابتداء اور انتظار حسین کے حوالے سے یہ بات بڑی حد تک درست ہے لیکن نارنگ جی کو نہیں کہنی چاہیے ان کی ساہتیہ تو چل ہی اسی سہارے پر رہی ہے بلکہ اگر اردو کو ہندوستان میں اسٹیبلشمنٹ کا سہارا نہ ہو تو اس کے مٹنے کی رفتار اور تیز ہو جائے گی۔ کیونکہ دوسری زمینی زبانوں کی طرح ہندی بھی خالص ہونے کے نام پرماضی کی طرف پلٹ رہی ہے اور کچھ ہی دن جاتے ہیں کہ ہندوستان میں ظ، ض، ذ، ز اور خ کی اصوات سے بننے والے الفاظ ادا کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور اگر آٹے میں نمک برابر ملے بھی تو جو یہ بتانے کے لیے رہ جائیں گے کہ ماضی میں کیا ہوتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کے حوالے سے یہ بات یوں درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یعنی حکومت یعنی حکمراں فوجی ہوں یا سول عوام سے بات کرنے کے لیے اردو ہی کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ حکومت اور حکمرانی والوں میں کوئی انگریزی کے بغیر نہیں جا سکتا۔

ساہتیہ، نارنگ اور اسٹیبلشمنٹ
 بات بڑی حد تک درست ہے لیکن نارنگ جی کو نہیں کہنی چاہیے ان کی ساہتیہ تو چل ہی اسی سہارے پر رہی ہے بلکہ اگر اردو کو ہندوستان میں اسٹیبلشمنٹ کا سہارا نہ ہو تو اس کے مٹنے کی رفتار اور تیز ہو جائے گی

ستر کی دہائی میں سکولوں کو قومی ملکیت میں لینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ حکمراں طبقے کے حجم کو چھوٹا کیا جا سکے۔ عوام کی جمہوریت اور سوشلزم تو شلوار قمیض پہن کر دفتروں میں آ جا سکنے سے ہی بہل گیا تھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اردو والی سرپرستی بنگالی کو نہیں دی اور دو لخت ہونا قبول کر لیا۔

اس اجلاس کے ایک اور مقرر محمد علی صدیقی تھے۔ ان سے یہ بیان منسوب کیا جاتا ہے کہ ’اردو کو دوسری زبانوں سے بچانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر مستقبل میں انگریزی سے، ان کا کہنا تھا کہ ’مادہ پرستی کا کلچر اردو پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اردو کو عجائب گھر کا ٹکڑا ہونے سے بچائیں’واہ صاحب واہ مزا آ گیا، انگریزی کے سابق استاد، انگریزی کے کالم نگار اور اردو کے مارکسی اور ترقی پسند نقاد، شاید ان سب کے ساتھ اب سابق بھی لگانا پڑے گا اور اس کا تمام تر ثواب حضرت گورباچوف کی کشادگی و تعمیر نو یعنی پرسٹرائیکا اینڈ گلاسنوسٹ کو جانا چاہیے۔

اس اجلاس کے ایک اور مقرر اردو کے نفسیات داں اور مورخ ڈاکٹر سلیم اختر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کو تھانہ اور کلاشنکوف کلچر سے بچانے کی ضرورت ہے اور انگریزی سکولوں سے بھی جو ہماری روایت کو تباہ کر رہے ہیں۔ کر رہے ہیں میں نے غلط لکھا انہوں نے ’ کر چکے ہیں‘ کہا تھا۔

ڈاکٹر صاحب تاریخ کو مختصر کرنے میں یہی خرابی ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ سکول ہماری روایت کب تھے یا کیسے ہیں؟ ہماری روایت تو مدرسے ہیں اور وہ واقعی اس وقت خطرے میں ہیں کیونکہ امریکہ انہیں طالبان کی نرسریاں سمجھتا ہے اور کوئی انہیں یہ نہیں سمجھا سکتا کہ مدرسوں کے طالب علموں کو طالبان بنانے میں کس کا ہاتھ ہے اور اب جو مدرسوں میں انگریزی متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس میں بھی نیک نیتی نہیں ہے بلکہ اسلام کو مشرف بہ مغرب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

محمد علی صدیقی
 انگریزی کے سابق استاد، انگریزی کے کالم نگار اور اردو کے مارکسی اور ترقی پسند نقاد، شاید ان سب کے ساتھ اب سابق بھی لگانا پڑے گا

مدرسہ کبھی بھی کسی زبان کو اختیار کرنے سے گریزاں نہیں رہا خرابی وہاں سے ہوئی جب مدرسوں کے نصاب میں سوویت توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکریت کا بیج ڈالا گیا اور اب اس بیج کو مار کر دوسرا ڈالنے کی منصوبہ بندی اور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس سے ایک اور خرابی انگریزی زبان کو محدود کرنے اور مقامی زبانوں کو نظرانداز کرنے کی شکل میں کی گئی تھی۔ اس کے اب یعنی حال کی صورت یہ ہے کہ پیچھے ماضی نہیں اور آگے مستقبل نہیں۔ اور اس میں سب کا قصور ہے لیکن خاص طور دانشوروں کا جنہوں نے ہمیشہ اس وقت خاموشی اختیار کی جب انہیں بولنا چاہیے تھا۔

بہت سے بزرگوں کی مخالفت کے باوجود مسلمان بٹوارے سے پہلے عربی کے بعد فارسی اور انگریزی ساتھ ساتھ شروع کرتے تھے اگر یہ روایت بٹوارے کے بعد بھی برقرار رہتی تو یہ صورِتحال نہ ہوتی جس کا رونا رویا جا رہا ہے۔ اب اُس پانی کو کہاں سے لائیں پاکستان میں نہ تو عربی پڑھانے والے ہیں، نہ فارسی اور انگریزی پڑھانے والے۔ جو پاکستان سے ماسٹرز کر کے باہر جاتے ہیں ان پر شک کیا جاتا ہے اور اس حد تک کہ انہیں ایک امتحان تو پاس کرنا ہی پڑتا ہے اور پڑھنے کے لیے۔ اب لے دے کے ایک رستہ ہے کہ اتنی اقتصادی ترقی کر لی جائے کہ مقامی زبانوں پر بھی فخر کیا جا سکے یہ کہیں زیادہ مشکل رستہ ہے جس ملک میں جمہوریت نہیں آ سکی اس میں اقتصادی ترقی کہاں سے آئے گی؟

66اردو عالمی کانفرنس
یہ کانفرنس سی ڈی اے کی تھی یا اردو کی؟
66مقامی عالمی میلہ
لاہور کتاب میلے کی ساری رونق مقامی ناشرین
66دی دا وِنچی کوڈ
ویٹیکن کو چونکا دینے والی کتاب کی مقبولیت
66 کتابیں دِلّی میلے میں
دِلّی میں پہلی بار پاکستانی کتابوں کا میلہ
66صحافت پر نئی کتاب
مغرب میں اردو اخبارات و جرائد کا تذکرہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد