سی ڈی اے کی عالمی اردو کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں پانچ روزہ عالمی اردو کانفرنس 2005 ہوئی ہے۔ اس کانفرنس کی میز بانی تو ادارہ ترقیات دارالحکومت یعنی سی ڈی اے نے کی لیکن اس کام میں اسے وفاقی وزارتِ تعلیم و ثقافت، اکادمی ادبیات اور مقتدرہ قومی زبان کا تعاون بھی حاصل تھا اور اس میں پیش پیش لوگوں میں طلعت عظیم، سید شمعون ہاشمی، نوید صدیقی، کشور ناہید، احمد فراز، افتخار عارف اور اختر وقار عظیم تھے۔ ’اردو ہے جس کا نام‘ کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس میں بھارت کے علاوہ برطانیہ، جرمنی، روس، چین، جاپان، ماریشش کے مندوبین بھی شریک تھے۔پاکستانی مندوبین اور منتظمین میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو کسی بھی حکومت میں کسی بھی طرح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بلا شبہ ان میں اچھا لکھنے والے بھی ہیں لیکن ان کی خوش کرداری کی تائید کوئی انتہائی مجبور ہی کر سکتا ہے۔ اب اگر یہ بات بھی ساتھ ہی یاد آ جائے کہ ہر زبان کا ادیب اپنے معاشرے کی ضمیر ہوتا ہے تو ان ادیبوں کو دیکھ کر کوئی بھی پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہے کہ پاکستانی معاشرے کا ضمیر خاصے عرصے سے ناگفتہ بہ حالت میں ہے۔ اب اس عالمی اردو کانفرنس کو ہی لے لیجیئے، اس کا انتظامی کمیٹی میں کشور ناہید، احمد فراز، افتخار عارف اور اختر وقار عظیم کے ناموں ، کاموں اور داموں کو تو سبھی جانتے ہیں، کیونکہ وہ جب بھی، جیسا بھی اور جو بھی کرتے رہے ہیں اس کا تعلق اور حوالہ اردو اور ادب کا ہی رہا ہے۔ اس میں بھی اگر فراز فیض نہیں بن پا رہے یا کشور اور افتخار عارف کو فراز کی سی قبولیت حاصل نہیں ہو پا رہی تو یہ بھی اردو ادب ہی کا جھگڑا ہے بلکہ ہمارے ایک دوست تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر فراز کی وجہ سے کوئی سرکاری عہدہ محترمہ کشور کو نہیں مل پایا تو یہ بھی ادب ہی کا جھگڑا ہے کیونکہ یہ معاملہ تو افتخار عارف کا بھی ہے۔ لیکن اعتراض کرنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ شعر لکھنے کے علاوہ اکادمی ادبیات تک کا سفر طے کرنے میں افتخار عارف نے لوگوں سے کیسی کیسی اور کتنی محبت کی، ٹھیک ہے کہ اس میں بی سی سی آئی کا بھی ہاتھ تھا اور اردو مرکز کا بھی لیکن دل گردہ تو افتخار عارف ہی کا تھا اور ان کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ وہ اردو کے ننانوے فی صد ادیبوں کو خاطر خواہ خواندہ نہیں سمجھتے ہیں لیکن ایسے خوش اخلاق ہیں کہ کبھی یہ بات کسی کے منہ پر ظاہر نہیں ہونی دیتے۔ جو بھی ملتا ہے اس سے محبت کا اظہار ہی کرتے ہیں۔ لیکن اس سوال کا ہمارے پاس بھی کوئی جواب نہیں کہ یہ طلعت عظیم، سید شمعون ہاشمی اور نوید صدیقی کون ہیں اور انہیں کس نے اردو کی اس عالمی کانفرنس کے انتظام میں مذکورہ بالا جانے مانے شعراء اور بیوروکریسی دیدہ مثلث کے سروں پر بیٹھنے کے لائق قرار دیا؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے آگے پیچھے کوئی فوجی ہو گا، اگر ایسا ہے تو ہمیں اس کا علم نہیں ہے لیکن یہ بات تو ہم نے بھی نہیں مانی کہ یہ تینوں جنرل مشرف کے رشتے دار ہیں کیونکہ جنرل مشرف کے دو ایک رشتہ داروں کو تو ہم بھی جانتے ہیں۔ لیکن جہاں تک اس بات کے غیر منصفانہ ہونے کا تعلق ہےتو جہاں جنرل کی حکومت ہو اور پیپلز پارٹی جیسی اپوزیشن پارٹی چلا چلا کرکہہ رہی ہو کہ مفاہمت تو ہم بھی چاہتے ہیں، تو اس کے بعد جو بھی ہو جائے کم ہے۔ خیر پی پی پی کی بی بی تو کو تو بہت پہلے بھی یہ شکایت تھی ’ہم تو فون کرتے ہیں وہ جواب ہی نہیں دیتے ہیں‘۔ اس کا اندازہ اس کانفرنس کے مقاصد کو اجاگر کرنے کے لیے تیار کیے گئے پیپر کو دیکھ کی ہی ہو جاتا ہے کہ کانفرنس سے کس کی خوشنودی مطلب تھی کانفرنس میں شریک ایک ادیب نے اس پیپر کو پیاز قرار دیا اور کہا کہ اس سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انتظام جن ہاتھوں میں تھا اردو سے ان کی وابستگی کس نوع کی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود کانفرنس اور بہت سی باتیں توجہ طلب تھیں اور فخر زمان کا یہ سوچنا درست نہیں کہ اردو کی وجہ سے پنجابی سرپرستی سے محروم ہو گئی ہے۔ جس کا کو ٹھا جیسا ہو گا اس پر ویسے ہی گاہک آئے گا اور یوں بھی زبان کو حکومتیں نہیں لوگ بناتے اور زندہ رکھتے ہیں، اردو احتیاج کی ایجاد ہے اب اس بات کو سمجھ لیا جانا چاہیے۔ فخر زمان اچھا لکھتے ہیں، پنجابی کی اچھی کانفرنسیں کراتے ہیں لیکن وہ ان باتوں کے ساتھ پنجابی کا ایک اخبار ہی چلا کر دکھا دیں انہیں خود ہی پتہ چل جائے گا پنجابی کا مسئلہ پنجابی نہیں اسلامی یا اسلام آبادی ہے۔ یہ تو عالمی کانفرنس کا ایک سرسری تعارف ہے اس کے اگلے حصے میں کانفرنس کے کچھ اجلاسوں کی تفصیل بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، کچھ اجلاس اس لیے کہ معاملہ طویل نہ ہو جائے ورنہ تو ہر اجلاس اور ہر اجلاس کا ہر مقرر و میزبان صد توجہ کا مستحق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||