ژاک دیدار اور بدایونی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ژاک دریدا کے انتقال کی خبر سنتے ہی مجھے افتخار جالب یاد آئے اور ضمیر بھائی یعنی ضمیر علی بدایونی ا ور یہ بھی اتفاق ہے کہ امریکہ سے ڈاکٹر منظور اعجاز کا فون آیا تو انہوں نے بھی باتوں باتوں میں افتخار جالب کا ذکر چھیڑا۔ ضمیر علی صاحب سے میرا تعلق ایک خورد کا تھا اور جالب صاحب سے خاموشی کو مکالمے میں تبدیل کرنے کا، جس قدر طویل خاموشی ہوتی اسی قدر گہرا مکالمہ، اور پھر ایک ساتھ: اچھا اگر ایسا ہی ہے تو یہ ۔ ۔ ۔ اور اگر یہ یوں ہے تو وہ ۔ ۔ ۔ ! یہ دونوں حضرات اردو ادب کے انتہائی اہم، انتہائی سنجیدہ اور انتہائی غیر مقبول نام ہیں، نہ تو وہ فیض ہیں اور نہ حبیب جالب اور نہ ہی ان کا گوپی چند نارنگ اور افتخار عارف سے کوئی علاقہ، اور یہ اس نوع کی خرابی ہے جو ایک اردو سے مخصوص نہیں ہے شاید اس کا اطلاق دنیا کی ہر زبان اور اس کے ادیبوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ ادھر کچھ یورپی اور لاطینی امریکی زبانوں نے اس خلاء کو کم کیا ہے جو ہر طرح کا گرما گرم اور مقبول ترین لکھنے اور فروخت ہونے والوں اور حقیقی ادب لکھنے والوں میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود پالو کوئیلو کی الکیمسٹ کو جیمس جوائس کے یولیسس کے مثال قرار دینے والے بھی اسی پڑھے لکھے مغرب میں موجود ہیں۔ دوسری مثال ادب کے حوالے سے سرکاری عہدوں کے حصول کی جدو جہد اور سیاست کرنے والوں کی ہے۔ ابھی ادھر پچھلے دنوں فرانسیسی فکشن رائٹر فرانسس ساگاں کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی مشہوری کی اولین وجہ وہ کتاب تھی جو انہوں نے چڑھتی جوانی میں چڑھتی جوانی اور اس کی اداسی و تنہائی کے بارے میں لکھی اور یہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں پچاس سال پہلے کے زمانے میں فرانس ہی میں فروخت ہوئی۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا وہ زمانہ تھا جب فرانس پر سارتر کی وجودیت اور جاز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ساگاں نے اس کتاب کے بعد چالیس سے زائد ناول ڈرامے وغیرہ لکھے لیکن اس نوع کی مقبولیت نہ تو ان کے کسی کام کو حاصل ہوئی اور نہ ہی سارتر کو یا ان کی کسی کتاب کو۔ اس کے باوجود آپ ساگاں کو سارتر کے مقابلے میں فرانس کی پہچان قرار نہیں دے سکتے۔ افتخار جالب نے ساٹھ کے لگ بھگ لسانی تشکیلات تصور پیش کیا اور اس پر اردو میں اتنی ہے لے دے ہوئی جتنی کہ دریدا کے ردِ ساختیات یا ڈی کنسٹرکشن کے معاملے پر برطانوی مدرسوں نے دکھائی۔ ہر تخلیقی اور غیر روایتی تصور کی آمد مدرسوں اور مدرسانہ ذہن رکھنے والوں میں اسی نوع کا ردِ عمل پیدا کرتی ہے لیکن اس کا کیا جائے کہ وسیع تر رسائی کے وسائل پر ان چھُٹ بھیّوں کو ہی بالا دستی اور اجارہ داری حاصل ہوتی ہے اور افتخار جالب کا سا تخلیقی باطن اور اور ضمیر علی جیسی فکری و معنویتی رسائی رکھنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ افتخار جالب کا تصورِ لسانی تشکیلات اسی ماورائے متن کا استعارہ ہے جو ساختیات اور ردِ ساختیات کی جدلیات میں موارائے متن معنی کو دریافت کرنے اور پھر اسکے مسلسل آگے سے آگے جانے پر اصرار کرتا ہے۔ دریدا انہیں معنوں میں ہمارے عہد کا ایک مشکل لسانی مفکر تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے تصور محض پیچیدہ ادبی مباحث اور تعبیر کے تصادم کا معاملہ نہیں بلکہ بقول ضمیر علی گویا متن از خود اپنے اندر کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اپنے دیکھنے والے کے اندر کے معنی خوابیدہ تہوں متحرک کرتا ہے اور اس طرح معنی متن کے وجود کے لیے ایک چیلنج بن جاتے ہیں۔ دریدا ان معنوں میں جب متن کو ملتوی کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس متن کا خالق بھی ملتوی ہو جاتا ہے گویا اب معنی متن اور اپنے خالق سے بالا ہیں۔ اگر متن اور اسے شکل دینے والے میں خالق و مخلوق کا رشتہ ہے تو معنی کیا نام دیا جائے گا؟ روح؟ اور اگر معنی روح ہیں اور عمومی تصور میں بھی تعبیر کیے جاتے ہیں تو معنی، متن اور اپنے پڑھنے، دیکھنے اور سننے والے کے اتصال سے ہر لمحے نیا اور قائم بالذات وجود اختیار والا نطفہ ہیں اور یہ نطفہ متن کی کوکھ میں نہیں اتصال کے شریک ثانی میں نمو پاتا ہے۔ اس طرح متن مسل ایک کے بعد ایک نئے معنی کو قیام دینے کا عمل جری رکھتا ہے اس کے لیے غالباً بہتر مثال ایک ایسے آئینے کی ہے جس میں ہر دیکھنے والے کو اپنی صورت دکھائی دیتی ہے اور جیسے جیسے صورت تبدیل ہوتی ہے آئینہ ویسے ویسے اسے دکھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ مثال دریدا کی نہیں ہے۔تاہم دریدا کے تصور کی رو سے جیسے آئینے کو اپنے اندر دکھائی دیتی صورت یا شے یا وجود پر قدرت نہیں ہوتی اسی طرح متن کو بھی معنی پر کوئی قدرت نہیں ہوتی اوراس کا انحصار قاری پر ہوتا ہے کہ وہ معنی کو کس حد تک متن سے آزاد کر سکتا ہے ۔ دریدا کا یہ تصور ردِ ساختیات ان معنوں میں کہا جاتا ہے کے ساختیات نے تو محض مصنف و خالق کی ارادی معنویت کو مسترد کیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ متن اپنے معنی کی تشکیل خود کرتے ہیں اور یہ معنی خالق کے ارادی معنی سے آزاد ہوتے ہیں لیکن دریدا کا اصرار تھا کہ متن میں معنی ہوتے ہی نہیں اور متن اس کے برخلاف کسی ایک معنی کے مسلسل التوا پر گامزن رہتا ہے۔ دریدا کے اس تصور نے ان لوگوں کو انتہائی مشتعل کیا جو ساختیات والوں سے اس بات پر ناراض تھے کہ انہوں نے خالق کے تصور اور اس کی باارادہ معنی خیزی کو مسترد کر غالباً کائنات و خالقِ کائنات کے رشتے ہی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ جب کہ دریدا کا تصور ان معنوں میں وجودیت سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے کہ اگر معنی، متن سے اتصال کے فریقِ سانی میں پیدا ہوتے اور نمو پاتے ہیں تو ساری ذمہ داری بھی اس طرف منتقل ہو جاتی ہے جہاں معنی نمو پاتے ہیں۔ دریدا کے نزدیک معنی کی تشکیل کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا جیسے کہ اقبال کو کائنات نا تمام محسوس ہوتی تھی اور کن فیاکوں کی صدائیں سنائی دیتی تھیں۔ دریدا فرق و افتراق یا ڈیفرینس کو التوا کا بنیادی عوامل قرار دیتا ہے اور متن سے زیادہ متنیت یا ٹیکسٹچوایلیٹی کا قائل ہے۔ یعنی متن کا التوا بھی متن کا التوا نہیں۔ وہ محض پیدائشی طور پر یہودی نہیں تھا بلکہ تہذیبی اور ثقافتی معنوں بھی یہودی تھا اور تورات کی اس متنیت پر یقین رکھتا تھا جو اس کے نزدیک یہودی میسٹیس ازم کی اساس ہے اور یہ مسٹیس ازم اسلام اور عیسائیت کے تصوف کا ہم معنی نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||