دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال اردو ادب جن شخصیات سے محروم ہوا ان میں اشفاق احمد، نگار صہبائی، سلیم شاہد، جعفر شیرازی اور مرزا ابنِ حنیف یاد رہ جانے والے لوگوں میں سے ہو سکتے ہیں لیکن اشفاق احمد کے سوا دوسروں کے بارے میں یہ بات بھی اعتماد سے نہیں کہی جا سکتی۔ اشفاق احمد گڈریا کے خالق تھے اور ان افسانہ نگاروں میں شامل تھے جن کے نام کے بغیر لکھی جانے والی اردو افسانے کے تاریخ اعتبار سے محروم رہے گی۔ وہ انیس سو پچیس میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ تابش دہلوی نے زندگی کے چورانوے سال دیکھے۔ وہ ایک وضع دار اور بہر معنی ’غیر ترقی پسند‘ شاعر اور آدمی تھے۔ ورنہ دنیا داروں کے لیے پچھلے نوے برسوں میں کیا کیا موقع نہیں آئے اور وہ کیا سے کیا نہیں بنے۔
اس سال گزرنے والوں میں ایک اور نمایاں ضمیر نیازی کا ہے۔ انہوں نے تمام زندگی انگریزی صحافت کی۔ لیکن ان کے بارے میں بالعموم محسوس یہ کیا جاتا ہے کہ وہ اردو کے ادیب ہیں۔ انہوں نے اردو میں صرف ایک کتاب ’زمین کا نوحہ‘ مرتب کی۔ ان کی انگریزی کتاب پریس ان چین کا ترجمہ اردو میں بھی ہوا۔ وہ طویل عرصہ بیمار رہے اور انتقال کے وقت ان کی عمر بہتر سال تھی۔ ایسے ہی اردو کے ایک اور ادیب اعجاز بٹالوی تھے۔انہوں نے کئی افسانے اور تنقیدی مضامین لکھے۔ لیکن اردو ادب کے لوگ انہیں ان کے ایک خاص مضمون کی وجہ سے جانتے ہیں جو انہوں نے عظیم شاعر ایزرا پاؤنڈ سے اپنی ملاقات کے بارے میں لکھا اور ادبی مجلے سویرا میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کے ایک معروف وکیل اور ایسے براڈکاسٹر تھے جنہوں نے بی بی سی اردو کے لیے بھی کام کیا۔ ان کے دوست احباب انہیں انکی بزلہ سنجی اور طنزکرنے کی بے پناہ صلاحیت کی بنا پر بھی یاد کرتے ہیں۔ رفتگاں میں پروفیسر جگن ناتھ آزاد بھی شامل ہیں۔ وہ میانوالی کے تلوک چند محروم کے ہاں انیس سو اٹھارہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے وقت وہ لاہور میں تھے جہاں سے دلی منتقل ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی شاعری کی کم بیش گیارہ، نثر کی انیس اور انگریزی میں اقبال پر ایک کتاب شائع ہوئی۔ غیر مطبوعہ کام اس کے علاوہ ہے۔ انہیں ایک معلم ادیب کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
حرفِ غلط سمجھ کے مٹا دیں انہیں کبھی اردو کے ایک انتہائی تخلیقی شاعر نگار صہبائی کا انتقال بھی اس سال ہوا ۔ وہ نا وقت پیدا ہونے والے لوگوں میں سے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے مخصوص اسلوب میں گیت نگاری کا آغاز کیا تو پاکستان میں تو کیا ہندوستان میں بھی گیت کے سراہنے والے نہیں رہے۔ اگر ان کے گیتوں کو نظموں کے زمرے میں بھی رکھا جائے تو ان کا کام بے مثال ہے۔ لیکن انہوں نے گیت کو گیت کے اسلوب میں لکھا اور گیت جس اسلوب میں لکھا جاتا ہے اس میں نظم کی داد دینے والے کتنے ہیں۔ لندن کے ساقی فاروقی ان کے انتہائی مداح ہیں اور باوجوہ پرانے مداح ہونے کے لیکن وہ اپنی بات کس کس کو سمجھا سکتے ہیں کہ نگار کے گیتوں کے مصروں میں پورے ہندوستان کی تہذیب بولتی ہے۔ بہر صورت اردو کے اس منفرد ترین شاعر کو اس کی زندگی میں کبھی اس طرح نہیں سراہا گیا جس کا وہ بجا طور پر مستحق تھا وہ جو ڈرائنگ روموں میں ان کی تعریف کے پُل باندھتے تھے انہوں نے اپنی بات لکھ کر نہیں کی۔ نگار صہبائی کا بہت سا کلام غیر مطبوعہ ہے اسے شائع ہونا چاہیے مگر ایسا کون کرے گا اور کیوں؟ اس سوال کا جواب تو اردو ادب کے لیے بننے والے سرکاری اداروں کو دینا ہے جو سرکاری تنخواہوں پر اپنے شعر و ادب کو پروان چڑھانے میں لگے ہیں۔ اس سال جانے والوں میں ایک اور اہم نام سلیم شاہد کا ہے۔ وہ ایک پکے سیاسی کارکن تھے اور ایک پر اسرار شاعر اور نثر نگار بھی۔ وہ ایک ایسے آدمی تھے جن پر منیر نیازی کا یہ مصرہ پورا اترتا ہے:- گم تھا اپنے آپ میں خوشبو جیسے پھول میں
شائع نہیں ہوئی اس لیے ابھی تک کہا نہیں جا سکتا کہ کیسی ہے۔ لیکن پنجابی میں شاعر ہونے کا معیار ہی یہ ہے شاعر اپنی ہیر کیسی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ایک اور کام یہ ہے کہ انہوں نے مارشل لاء کے خلاف لکھے جانی والےادب کو جمع اور مرتب کیا۔ اس سال اردو جن لوگوں سے محروم ہوئی ہے ان میں ایک اور بے مثال آدمی مرزا ابنِ حنیف تھے۔ آپ انہیں محقق کہہ سکتے ہیں ان کی کتابیں بہت سے لوگوں نے دیکھی ہوں گی سات دریاؤں کی سرزمین، قدیم مصری ادب جو چار جلدوں میں ہے، اس کے علاوہ قدیم ہندوستانی ادب، گویا ان کا سارا کام قدیم اور اساطیری ادب کی دریافت پر مبنی ہے اور ایسا ہے جس کے لیے ادارے درکار ہوتے ہیں۔ کراچی والے ڈاکٹر فہیم اعظمی اسی سال گزرے ہیں۔ انہیں ان کے رسالے صریر کی وجہ سے زیادہ جانا جاتا تھا جو خاص طور پر ساختیاتی مباحث کی بنا پر معروف ہوا۔ تاہم انہوں نے خود ناول بھی لکھے اور افسانے بھی۔ ’جنم کنڈلی‘ ناول اور ’ شایان اور دوسری کہانیاںِ‘ِ ان کی شائع ہونے والی کتابیں ہیں اور ان کے ورثاء نے اعلان کیا ہے کہ صریر میں انہوں نے جو اداریے اور آراء شائع کی تھیں انہیں بھی مرتب کر کے شائع کیا جائے گا۔ صریر ایک منفرد جریدہ تھا، اب اس کا کیا ہو گا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر اسے جاری رکھا جا سکتا اور اسی طرح جیسے فہیم اعظمی نکالتے تھے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اس کے علاوہ اس سال راولپنڈی کے غزل گو حسن ناصر گئے، نعت گو حفیظ تائب کا انتقال ہوا، عرفان صدیقی ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی کلیات ’دریا‘ ہے اور اس کے علاوہ بھی ان کی شاعری ہے۔ لندن میں صحاب قزلباش کا انتقال ہوا جو شاعر بھی تھیں اور براڈکاسٹر بھی۔ چند سال قبل ان کی یکے بعد دیگرے چار کتابیں شائع ہوئیں۔ جو ’میرا کوئی ماضی نہیں‘، ’ملکوں ملکوں شہروں شہروں‘، ’روشن چہرے‘ اور ’لفظوں کے پیراہن‘ ہیں۔ انہوں نے شاعری کی ابتداء سن پچاس میں کی اور دلی کلاتھ مل کے انڈو پاک اور روزنامہ’ ڈان‘ کے مشاعروں میں اپنی سحر انگیز آواز کے ساتھ نہایت عمدہ غزلوں کی بدولت مقبول ہوئیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک کشادہ دل میزبان تھیں اور ان کے دوستوں کو ان کی یہ بات بہت یاد آتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||