BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 December, 2004, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہت شور سنتے تھے۔۔۔

کتابوں کا سال
’اس سال کئی کتابیں آئیں مگر کوئی بھی قابلِ ذکر نہیں ہے‘
اس سال آنے والی کتابوں میں سرِ فہرست شاعری اور تنقید کی کتابیں ہیں۔ شاعری میں ظفر اقبال کی ایک عرصے سے متوقع کلیات ’ان تک‘ کی پہلی جلد، احمد مشتاق کی کلیات، حسن عابدی کا مجموعہ ’فرار ہونا لفظوں کا‘ ، ابرارالحسن کا مجموعہ ’نقش بر آب‘، نثر میں اشفاق احمد کی ’زاویے‘، زاہدہ حنا کے افسانوں کا مجموعہ ’عورت زندگی کا زنداں‘، محمد منشا یاد کے افسانوں کا انتخاب ’شہر فسانہ‘ اور محمد حمید شاہد کے افسانوں کا مجموعہ ’مرگ زار‘ اور تنقید میں شمس الرحمان فاروقی کی ’تعبیر کی شرح اور افسانے کی حمایت میں‘، محمد علی صدیقی کی ’جہات‘، اور آصف فرخی کی کتاب ’عالم ایجاد‘ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر قابلِ ذکر کتابوں میں خامہ بگوش کے کالم دو جلدوں میں، ڈاکٹر زیڈ اے احمد کی کتاب: میرے جیون کی کچھ یادیں، ڈاکٹر منظور احمد کی: اسلام: چند فکری مسائل، نثار عزیز بٹ کی: گئے دنوں کا سراغ، جسٹس ریٹائرڈ نسیم حسن شاہ کی: چند یادیں اور تاثرات، جمال پانی پتی کی نفی سے اثبات تک، ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی کی: آدمی اور کتاب شامل کی جا سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ ممتاز شیریں کی کتاب: منٹو: نوری نہ ناری دوبارہ شائع ہوئی ہے، تنقید میں ڈاکٹر جعفری کی شاگردانِ انیس آئی ہے، شاہد حنائی نے شاہکار سندھی کہانیوں کا انتخاب کیا ہے، سید جمیل مظہر نے جدید سندھی ادب کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، شفیع عقیل کا ایک اور سفر نامہ : پیرس پھر پیرس ہے شائع ہوا ہے۔

اور ایک اور قابلِ ذکر کتاب جامعہ ملی دلی والے شمیم حنفی کی ہے جو کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ یہ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔

احمد سلیم نےان تحریروں کا انتخاب کیا ہے جو سر عبدالقادر کے معروف جریدے مخزن میں بیسویں صدی کے ادبی، لسانی، تہذیبی اور سماجی مسائل کے موضوعات کے حوالوں سے شائع ہوتی رہیں۔ اس انتخاب کا نام بھی انہوں نے مخزن ہی رکھا ہے اس کے آٹھ باب ہیں جن میں سو سے زیادہ تحریریں جمع کی گئی ہیں۔تحقیق اور تدوین کے حوالے سے یہ ایک عمدہ کام ہے اور احمد سلیم کے ذوق کی ایک بار پھر توثیق کرتا ہے۔

دو ہزار چار میں آنے والی کتابیں
افسوس کہ اس سال آنے والی کتابوں میں ایک بھی تو ایسی نہیں جس کا ایسا شور اٹھا ہو کہ لکھنے والوں کے سوا اوروں کو بھی سنائی دیتا

ان کتابوں کے علاوہ پاکستان سے دو اور کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں جو لندن میں آ بسنے والے اردو ادیبوں کی ہیں۔ ان میں ایک شعری انتخاب ساقی فاروقی کی غزلوں کا ہے اور ایک قیصر تمکین کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔

قیصر تمکین تیکھی اور چبھتی ہوئی نثر لکھتے ہیں ادیب ہونے کے علاوہ وہ سابق صحافی بھی ہیں اور دنیا کو دیکھنے سمجھنے کی اپنی ایک الگ آنکھ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ کتاب میں نے نہیں دیکھی لیکن سنا ہے کہ ان کا اسلوب چٹکیاں لے کر جگانے کا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کا نام اعتراف و انکسار ہے یا ناقدین سے مایوسی کا اظہار۔ تنقید کی موت، نام اور عنوان دونوں کے اعتبار سے اچھا ہے۔ خاص طور پر جب گزشتہ صدی میں تاریخ و تہذیب سمیت اور چیزوں کے اختتام اور موت کا اعلان کیا گیا ہے تو تنقید کو بچانے میں کیا رکھا ہے۔

ساقی فاروقی کی کتاب میں نے دیکھی اور بہت کم وقت کے لیے دیکھی ہے۔ ڈاکٹر جاوید کے گھر میز پر رکھی تھی، جب تک میزبان کو معیوب محسوس نہ ہوا میں نے واپس کتاب نہ رکھی، اس سے زیادہ نہ تو کتاب نے اکسایا نہ ہی میں نے کوشش کی۔ یوں بھی ساقی فاروقی کی غزل اب تک تو کوئی نشان نہیں بناسکی اور اس مجموعے سے بھی بہت زیادہ کی توقع نہیں کی جانی چاہیے لیکن جس شاعر نے اتنا عرصہ شعر کو دیا ہو اس کی کتاب مطالعے کی ایک کوشش کا فرض تو عائد کرتی ہی ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ کتاب کے متن پر منحصر ہے۔
ظفر اقبال بلا شبہ اس وقت اردو کے سب سے بڑے غزل گو ہیں شاعر کے اس مجموعی مقام کے لیے منیر نیازی ان کے حریف ہیں۔ لیکن اگر بات غزل کی ہو تو ان کا ثانی کوئی نہیں۔ معاملہ ہنر کا ہو یا تخلیقی قوت کا، ان کی متوقع کلیات کی پہلی جلد کی اشاعت ایک اچھی خبر ہے۔ میری طرح بہت سے لوگوں کو اس زود و بسیار نویس شاعر کا کلام ایک جگہ دیکھنے کی خواہش ہو گی۔

عاشور کاظمی کی کتاب
عاشور کاظمی کی کتاب کا عکس

ظفر اقبال کو غالب کی پیروی میں یہ بھی کرنا چاہیے کہ اپنا ایک سخت گیر انتخاب بھی کریں اور یہ کام کسی اور پر نہ چھوڑیں کیونکہ ان سے بہتر شاید اس کام کو کوئی اور نہیں کر سکتا۔احمد مشتاق کی کلیات الہ آباد سے شب خون کتاب گھر نے شائع کی ہے۔ ان کی شاعری ناصر کاظمی اور منیر نیازی کے درمیان کہیں ہے اور اب تک خود اپنی ایک شناخت سے محروم ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا جادو اب تک کسی کے سر چڑھ کر نہیں بولا۔ یوں بھی وہ کم گو شاعر ہیں پتہ نہیں ان کے پاس ایسا کیا تھا کہ کلیات کی اشاعت پر آمادہ ہو گئے۔ خیر ابھی ان کی کلیات تک رسائی ممکن نہیں ہوئی۔ ہوئی تو ضرور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس میں زیادہ ہاتھ کس کا ہے، شمس الرحمان فاروقی کا یہ خود احمد مشتاق کا۔

حسن عابدی کے شعری مجموعے کی اشاعت ایک اچھی خبر ہے۔ انہوں نے ادھر نظمیں کہی ہیں اور بہت مختلف کہی ہیں۔ اس کا اندازہ ان کی کتاب کے نام ہی سے آپ کو ہوگیا ہو گا۔ انہوں نے ایک عمر سوشلسٹ انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں گزاری ہے اور اب بھی شاید وہ اس کا خواب دیکھتے ہوں گے کیونکہ ٹریڈ یونین سے تو وہ دست بردار نہیں ہوئے۔ وہ شاعری کے ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے روایت سے انحراف کی ادبی ضرورت کو ترقی پسندی کے خلاف نہیں سمجھا۔

ان کی نئی نظموں میں وہ تازگی ہے جو بہت سے نئے لوگوں میں بھی نہیں ہے۔

ابرارالحسن کا سنا ہے کہ فرانس میں رہتے ہیں اور اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ اب تک ان کی شاعری پڑھنے سننے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن آصف کی دریافت ہیں دیکھیں کیسے نکلتے ہیں۔

تنقید میں شمس الرحمان کی دونوں کتابیں کراچی سے شائع ہوئی ہیں۔ افسانے کی حمایت میں دیکھی ہے۔ ان کا سارا ہی کام کچھ نہ کچھ دیتا ہے لیکن پاکستان میں اب ہندوستان میں رہنے والوں کی کتابیں اس طرح شائع ہونا انتہائی خوشگوار ہے۔ تعبیر کی شرح پر گفتگو کتاب کی آمد تک ادھار لیکن افسانے کی حمایت میں، یلدرم کو موضوع بنانے والے مضمون کے سوا تمام مضمون ہم عصر افسانے اور افسانہ نگاروں کے مسائل کا حصار کرتے ہیں۔ اور یہی اس کتاب کا وصف ہے کیونکہ جن افسانہ نگاروں کو شمس الرحمان فاروقی نے چنا ہے ان پر بہت ساری گفتگو درکار ہے۔

لائبریری

خامہ بگوش کے کالموں میں ادیبوں کی پگڑیوں سمیت بہت کچھ اچھلتا رہا ہے۔ اب ان کے کالم کتابی شکل میں آئے ہیں لیکن انتخاب کی ذمہ داری انہوں نے ایک محروم ادیب کے سر ڈال دی ہے اور نہیں کہا جاسکتا کہ یہ انتخاب مرحوم نے زندگی ہی میں کیا تھا یا بعد از مرگ۔ ویسے مظفر علی سید کے احباب کا کہنا ہے کہ وہ جو بھی کام کرتے تھے اس پر ملنے والوں سے بات ضرور کرتے تھے لیکن اس کا ذکر انہوں نے نہ جانے کیوں نہ کیا کہ وہ ان کالموں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

انتخاب مظفر سید کا ہو یا نہ ہو کالم تو خامہ بگوش کے ہیں۔ انہیں کتابی شکل میں شائع کر کم از کم یہ ضرور ثابت کر دیا گیا ہے کہ کالموں کے ذریعے ظاہر کی جانے والی رائے روا روی میں نہیں دی گئی تھی اور اگر سرکاری انعام یا کسی ایوارڈ کا حصول منشا نہیں تو یہ فیصلہ بھی داد کا مستحق ہے۔

محمد علی صدیقی صاحب اب کن مسائل کے اسیر ہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی تحریک کے بہت سے چارہ گر تو رخصت ہو چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہوا میں تیر اندازی کر رہے ہیں یا انہوں نے کوئی نیا حریف تلاش لیا ہے۔ انہوں نے اب تک کی تنقید میں ایسا تو کوئی کام کیا نہیں جو تخلیق کو راستہ دکھا سکے لیکن کم سے کم وہ ایسے ادیب بھی نہیں جن سے لاتعلقی اختیار کر لی جائے۔

آصف فرخی کے مضامین کا مجموعہ: عالم ایجاد، افسانے کی تنقید اور تاثراتی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ ان کا آخری مضمون مجھے ایک نئے انداز کی کہانی لگا۔ میرا خیال ہے انہیں اب اپنے وقت میں آنا چاہیے ان کے بارے میں نہ جانے یہ تاثر جان نہیں چھوڑتا کہ وہ کہیں ماضی میں ہیں۔ ان کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان پر ایک بھاری بھرکم خاندان اور ماضی لدا ہوا ہے۔ شاید اب اسے جھٹکنے اور بہت کچھ کرنے کی بجائے ایک جہت میں چلنے کا وقت ہے۔ ان کی یہ کتاب اس لیے اہم ہے ان کے کسی ہم عصر نے اس نوع کا کام نہیں کیا اور اس کے علاوہ انہوں نے ابھی اپنے اہداف میں دوستوں اور مخالف تصورات کو الگ نہیں کیا اور جب تک وہ مسترد کرنے کا دو ٹوک حوصلہ نہیں دکھاتے تنقید کا کام تو نہیں ہو سکتا۔ اس مجموعے میں ان کا مطالعہ شترِ بے مہار بنا ہوا ہے اور بد ہضمی کا بھی عندیہ دیتا ہے۔

جمال پانی پتی، سلیم احمد کے دوست تھے، اس کے علاوہ انہوں نے اب تک اپنی کوئی شناخت نہیں بنائی اور اس کتاب کے حوالے سے بھی کہیں سے کوئی آواز ایسی سنائی نہیں دی جس سے یہ پتا چلتا کہ کہ جمال پانی پتی کی کتاب آئی ہے۔

افسوس کہ مذکورہ کتابوں میں ایک بھی تو ایسی نہیں جس کا ایسا شور اٹھا ہو کہ لکھنے والوں کے سوا بھی اوروں کو سنائی دیتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد