سید عاشور کاظمی کی نئی کتاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مقیم سید عاشور کاظمی کا نام ایک شاعر، ادیب، محقق، کالم نگار اور فلم ساز کی حثیت سے خاص طور برصغیر اور عمومی طور پر دنیا بھر میں اردو شناس لوگوں میں کوئی نیا نام نہیں ہے۔ اردو کی ترقی پسند تحریک کے زندہ رہ جانے والے بڑے ناموں میں سے ایک نام ان کا بھی ہے اور انیس کتابوں کے اس ہمہ جہت لکھاری کی نئی تصنیف ’بیسویں صدی کے اردو اخبارات اور رسائل مغربی دنیا میں، ابھی گزشتہ دنوں میں ہی منظر عام پر آئی ہے اور اس نے جلد ہی فقط ادبی حلقوں میں ہی نہیں سنجیدہ صحافتی حلقوں میں بھی پذیرائی حاصل کی ہے۔ یہ کتاب اپنے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک قاری کی توجہ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ کتاب کا انتساب ہی باقی کتاب کو پڑھنے پر اکساتا ہے۔ عاشور کاظمی نے اس کتاب کا انتساب کچھ یوں لکھا ہے ’اپنے ان صحافی دوستوں کے نام جو نہ جھکنے والے سر اور نہ بکنے والے قلم کی حرمت اور مثبت صحافت پر یقین رکھتے ہیں‘۔ اس تحقیقی کتاب میں برطانیہ، یورپ، سکینڈینویہ، جرمنی، کینیڈا اور امریکہ کے ایک سو انیس ایسے اخبارات اور جرائد کا تذکرہ ہے جن کے بارے میں شاید ان ممالک اور براعظموں میں رہنے والے اردو شناسوں اور صحافت کے شعبے سے منسلک افراد کو بھی علم نہ ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک طویل مضمون میں یہ بتایا ہے کہ بھارت میں پہلا اردو اخبار اٹھارہ سو سینتیس میں مرزا پور سے جاری ہوا تھا۔ یورپ میں اردو صحافت کا باب بھی خاصا طویل ہے جس میں چھتیس اردو اخبارات اور رسائل کا ذکر ہے۔ عاشور کاظمی کے مطابق برطانیہ میں پہلا اردو اخبار لندن سے انیس سو چھپن میں نوائے وقت لاہور کا اوورسیز ایڈیشن تھا جو انیس سو ساٹھ تک باقاعدگی سے نکلتا رہا۔ برطانیہ کےمعروف اخبارات اور جرائد میں مشرق، ایشیا، ملت، جنگ، وطن ، اردو ٹائم اور آفاق شامل ہیں۔ یورپی ممالک سے جاری ہونے والے اخبارات اور جرائد میں سے چوبیس صرف ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن سے جاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح انیس سو اکہتر میں کینیڈا کے پہلے پندرہ روزہ اردو اخبار کا نام بھی صدائے پاکستان ہی تھا۔ یہ اور اس قسم کے بے شمار انکشافات سید عاشور کاظمی کی کتاب میں موجود ہیں جو صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے توجہ طلب ہیں۔ میری ذاتی رائے میں اس کتاب کا اگر کوئی کمزور پہلو ہے تو وہ امریکہ کے اخبارات اور جرائد کا تذکرہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ جیسے بڑے ملک میں اردو صحافت پر تحقیق ایک الگ اور نہایت دقت طلب موضوع ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ تحقیق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ دو سو گیارہ صفحات کی اس کتاب کو انسٹی ٹیوٹ آف تھرڈ ورلڈ آرٹ اینڈ لٹریچر برطانیہ نے بھارت کے شہر دلی سے شائع کرایا ہے اور یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ یہ صحافت کے طالبعلموں اور صحافتی موضوعات پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک مدد گار دستاویز ثابت ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||