BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004, 21:40 GMT 02:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمانوں سے خوف یا نفرت کیوں؟

فلاچی
گارجین نے گزشتہ ہفتے عالمی کالموں کے صفحے پر تیکھے ناک نقشے والی ایک خاتون کی تصویر شائع کی، پہلی نظر میں تو یہ تصویر فرانسیسی اداکارہ برجی بارودت یا بغژی باغدو کی کچھ سال پہلے کی تصویروں میں سے لگتی تھی لیکن ذرا غور کرنے پر یہ غلط فہی جاتی رہی۔

ناک پر ٹکی شیڈ دار بڑے شیشوں والی عینک کے عقب سے جھلکتی آنکھوں میں وہ پُراشتعال اور بے حجابانہ بے تکلفی نہیں تھی جس نے برجی بارودت یا گریٹا گاربو کو ایک مدت تک ’سیکس بم‘ یا پُر کشش جنسی وجود بنائے رکھا۔ تاہم اس عمارت کے کھنڈر بھی اپنے اُس پرشکوہ ماضی کا منہ بولتا اظہار تھے جس نے ایک زمانے تک دنیا بھر کے ان تمام لوگوں اپنا ذکر کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو صرف اپنا ذکر سننا زیادہ پسند کرتے تھے۔

یہ تصویر اوریانہ فلاچی کی تھی۔

اگرچہ اطالوی نژاد اوریانہ فلاچی اب بھی بیسٹ سیلّر مصنفوں یعنی بہت فروخت ہونے والے مصنفوں کی فہرست میں ہیں، خاص طور پر اپنی ان دو کتابوں کی وجہ سے جو 11/9 بعد شائع ہوئی ہیں لیکن وہ لوگ جو تاریخ، سیاست، صحافت اور صحافتی ادب کے بارے میں باخبر رہنے تھوڑی سی دلچسپی بھی رکھتے ہیں، ستر کی دہائی میں اتھل پتھل کے اس زمانے کو فراموش نہیں کر سکتے جو غیر جانب تحریک، بائیں بازو کی نام لیوا سیاسی و فوجی حکومتوں کے عروج و زوال سے ایران میں شاہ ایران اور امریکہ کے زوال اور ایرانیوں کے روحانی پیشوا امام خمینی کی ایران واپسی کا تھا۔

انہیں دنوں میں اوریانہ فلاچی کا نام بھی سامنے آیا اور پروسائنو سوویت یونین کی سنسر زدہ دنیاؤں کے باہر کی زبانوں کا شاید ہی کوئی اخبار ہو گا جس میں اوریانہ فلاچی کی تصاویر اور ڈھکی ڈھکی عاشقانہ مہک دیتے وہ بے باکانہ انٹرویو اور ملاقاتوں کے قصے نہ چھپے ہوں جو وہ اس وقت دنیا بھر کے ان رہنماؤں سے کر رہی تھیں جو اس زمانے میں وقت کی باگیں سنھالے ہوئے تھے اور صحافیوں کو بالعموم اپنے آس پاس نہیں پھٹکنے دیتے تھے۔

انہوں نے ماؤ سے کیسنجر تک اور اندرا گاندھی سے امام خمینی تک سبھی کے انٹرویو کیے اور یہ انٹرویو ایسے تھے کہ یہی ان کی شناخت بن کر رہ گئے اس کے بعد سے وہ مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ ایسا تنازع کھڑا کریں جو انہیں لفظوں کے دنیا میں ایک نئی زندگی دے سکے اور یہ موقع انہیں 11/9 نے فراہم کر دیا۔

اس وقت ذرائع ابلاغ اتنی آزادی کا استعمال نہیں کرتے تھے جو اب ’بگ بردر‘ برطانیہ تک پہنچ گئی ہے اور اس میں کوئی عیب محسوس نہیں کیا جاتا کہ شیل کو فطری لباس میں گھاس کاٹتے یا میشل کو سٹیو کے ساتھ ایک بستر میں اس طرح دکھایا جائے کے ہم بستری کا یقین سا ہونے لگے اگرچہ کرسٹین کیلر یا پروفومو اسکینڈل یا اس نوع کے قصے تو شاید اس وقت ہی سے چل رہے ہیں جب سے باغ بہشت سے سفر کے حکم کی تعمیل کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

لیکن اویانہ فلاچی خود اس زمانے میں ایسے اشارے اور کنائے چھوڑتی تھیں کہ میشل اور سٹیو کی سی صورتِ حال کا شبہ ہونے لگتا تھا اور یہ مقبولیت کے لیے ان کے بہت سے دوسرے حربوں اور ہتھکنڈوں میں ایک تھا جو اس زمانے میں انتہائی کامیاب تھا۔

ممکن ہے یہ ان کا فطری انداز ہی ہو جو ثقافتی و تہذیبی فرق کی وجہ سے ہمیں ہی ایسا لگتا ہو۔ بہر حال اوریانہ فلاچی کا اصل امیج ایک بے باک صحافن ہی کا تھا۔

بے باک تو وہ اب بھی ہیں لیکن شاید عمر اور حالات نے ان کی سوچ کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ کچھ ہی عرصے قبل ان کا پستان کے کینسر کی وجہ سے آپریشن ہوا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگرچہ ان کی عمر ابھی صرف چوہتر سال ہے لیکن اب انہیں یہ ڈر لگنے لگا ہے کہ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت ان کے ان مداحوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

یہ خوف انہیں خاص طور اپنی کتاب ’دی ریج اینڈ دی پرائیڈ‘ کی اشاعت کے بعد سے ہوا ہے۔ مجھے ان کے خوفزدہ ہونے پر کچھ زیادہ یقین نہیں ہے لیکن آج کل جو کچھ وہ لکھ رہی ہیں اس میں ممکن ہے کہ ان کے تشہیری مشیروں نے انہیں یہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے کہا ہو۔

’دی ریج آف دی پرائیڈ‘ میں وہ اسلام کو ایک پہاڑ سے تشبیہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں:

’یہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اپنے اندھے پن کی پاتال سے بلند نہیں ہو سکا، جس نے تہذیب کی فتوحات پر اپنے دروازے نہیں کھولے،اور جس نے کبھی آزادی، جمہوریت اور ترقی کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ مختصراً اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘۔

وہ متنبہ کرتی ہیں: ’افغانستان سے سوڈان تک، فلسطین سے پاکستان تک، ملائشیا سے ایران تک، مصر سے عراق تک، الجیریا سے سنیگال تک، شام سے کینیا تک، لیبیا سے چاڈ تک، لبنان سے مراکش تک، انڈونیشیا سے یمن تک، اور سعودی عرب سے صومالیہ تک مغرب سے نفرت کی ایک ایسی آگ پھیل رہی ہے جسے وقت تیزی کی ہوا دے رہا ہے۔اور اسلامی بنیاد پرستی کے پھول ایسے بیج کی طرح پھیل رہے ہیں جو ایک سے دو سے دو سے چار، چار سے آٹھ اور اٹھ سے سولہ ہوتے جا رہے ہیں اور اسی رفتار سے بتیس ہوں گے اور بے شمار ہوتے چلے جائیں گے‘۔

فرانس کی ایک تنظیم نے جو نسل پرستی کے خلاف اور لوگوں کے مابین دوستی کے لیے کام کرتی ہے ان کی اس کتاب پر پابندی لگوانے کی کوشش کی تاہم فرانس ہی ایک عدالت نے اس تنظیم کی یہ درخواست مسترد کر دی۔

اٹلی میں اطالوی اسلامی پارٹی کے صدر ان کے خلاف ایک پمفلٹ لکھا جس کا عنوان تھا ’اوریانہ فلاچی کی اسلامی سزا‘ اور اس میں اوریانہ فلاچی کو مارتے ہوئے مرنے کی ترغیب دی گئی۔

اوریانہ فلاچی نے اس مصنف کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور کہ وہ لوگوں کو اکسا رہے کہ وہ انہیں قتل کر دیں۔ اور اگر پمفلٹ میں وہی لکھا گیا ہے جو وہ کہتی ہیں تو ان کا الزام درست ہے اور جو کوئی بھی ایسا کرنا چاہتا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

لیکن جو کچھ خود اوریانہ فلاچی لکھ رہی ہیں کیا وہ اس زمرے میں نہیں آتا جو لوگوں کی ایک بڑی آبادی کے خلاف ایسی نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے جو ان کی اور ان کے بچوں کی زندگیوں کو خطروں سے دوچار کر سکتا ہے اور کیا انہیں دکھائی نہیں دے رہا وہ حکومتیں جنہیں وہ اس خطرے سے آگاہ کر رہی ہیں کہ اسلام مغرب کو فتح کرنے والا ہے وہ پہلے ہی انسانیت، انسانی حقوق اور انصاف کی بنیادی اقدار کی کیا کیا خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔

میں صرف چند مفروضے پیش کرنا چاہتا ہوں:

فرض کیجیے کہ عراق عراق نہ ہوتا امریکہ یا اس کی کوئی ریاست ہوتا اور اس پر ان ملکوں نے مل کر اسی طرح حملہ کیا ہوتا جیسے امریکہ اور اس اتحادیوں نے کیا ہے تو اوریانہ فلاچی صاحبہ اور ان جیسے لوگوں کا موقف کیا ہوتا؟

فرض کریں کہ فلسطینی جس حال میں ہیں اس میں یہودی ہوتے اور فلسطینی وہی کرتے جو اس وقت اسرائیل کر رہا ہے تو اس پر اس انتہائی تہذیب یافتہ دنیا کی رائے اور رویہ کیا ہوتا؟ غرضیکہ۔ ۔ ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد