زکریا موساوی دہشتگرد کیسے بنا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زکریا موساوی، وہ زکریا موساوی کیسے بنا جس کے بارے میں دنیا کے ان بیس افراد میں بیسواں ہونے کا یقین کیا جا رہا ہے جنہوں 11/9 کے ذریعے امریکہ اور صدر بش کو ساری دنیا پر اپنی مرضی چلانے کے لیے طاقت کے اندھے استعمال کا اختیار دے دیا اور صدر بش نے یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ ’جو ان کے ساتھ نہیں وہ دشمنوں میں سے ہے‘۔ مجھے تو یہ تقسیم انتہائی ہولناک اور پُرجنون محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے اور ہیں، جو اس وقت بھی جہادی سیاست اور طریقے کے خلاف تھے جب اس حکمتِ عملی کو افغانستان میں آنجہانی سوویت یونین کے خلاف استعمال اور مستحکم کیا جا رہا تھا اور اب بھی ہیں جب اسے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے واحد راستے کے طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی اس کے پیچھے امریکہ تھا اور اب بھی اس کی وجہ امریکہ ہی ہے۔ اس وقت بھی سارا مغرب اور پاکستان اور پاکستان جیسے ملک امریکہ کے ساتھ تھے اور اب بھی سارا مغرب اور دوسرے مذکورہ ملک امریکہ کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ اس وقت بھی پاکستان پر ایک فوجی حکمراں تھا اور اس وقت بھی ایک فوجی ہی ہے۔ زکریا موساوی کی کہانی کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ میں نے ایک کتاب’میکنگ آف اے ٹیررسٹ‘ پڑھی ہے یہ کتاب اس کے بھائی عبد صمد موساوی نے لکھی ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کا ایندھن بننے والے بھی وہی لوگ تھے جنہیں کہیں نہ کہیں نفرت، تعصب اور امتیاز کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اب بھی شاید اس میں وہی آگے آگے ہیں جنہیں زندگی میں کہیں اور پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں دی مل رہی۔ چار بہن بھائیوں میں زکریا سب سے چھوٹا تھا۔ وہ ذہین، خوش مزاج اور ہنسنے ہنسانے والا تھا۔وہ مسلمان تھا لیکن صرف اتنا کہ گوشت دیکھ کر بے ساختہ پوچھتا: ’سوّر کا تو نہیں‘۔ وہ فرانس میں پیدا ہوا تھا لیکن فرانسیسیوں نے کبھی اسے فرانسیسی نہیں مانا۔
افریقہ سے فرانس آنے والے وہ لوگ جنہیں صمد کے بقول فرانس میں ’ڈرٹی نیگر اور عرب‘ کہا جاتا ہے، زکریا کو اس لیے عرب نہیں مانتے تھے کہ اسے عربی نہیں آتی تھی اور اس کی محبوبہ فینی کے والدین نے اسے اس لیے قبول کرنے سے انکار کر دیا کے ان کی بیٹی اتنی بھی گئی گزری نہیں کہ اسے ایک عرب سے بہتر رشتہ نہ جڑ سکے۔ نوربون میں وہ کھیل کے میدان سے اس لیے الگ ہو گیا کہ فرانسیسی لڑکے اسے عرب ہونے کے باوجود اچھا کھیلنے کی سزا یہ دیتے کہ اسے ہر بار آنے بہانے مل کر خوب مارتے۔ نسلی منافرت کا یہ تجربہ اس وقت انتہائی تلخ شکل اختیار کر گیا جب وہ فینی کو ایک کلب میں لے کر گئے اور وہاں موجود لڑکوں نے انہیں اتنا مارا کہ انہیں اٹھا کر باہر لایا گیا یہ صرف اس لیے ہوا کہ ان کے ساتھ فینی تھی، فینی، جس کی جلد کا رنگ گورا تھا اور آنکھوں کی رنگت پیلی۔ انہیں اور ان کے بڑے بھائی کو ایک سکول سے نکال کر دوسرے سکول بھیج دیا گیا اور وہاں سے ٹیکنیکل سکول کا راستہ دکھا دیا گیا۔ ان کے والدین میں طلاق کے بعد علیحدگی ہو گئی اور کسی نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ ماں اور باپ کے ہوتے ہوئے زکریا نے بڑی بہنوں اور بھائی کے ساتھ خاصا وقت ایک ایسے یتیم خانے میں گزارا جہاں بچے منشیات بھی استعمال کرتے تھے اور جسم بھی بیچتے تھے، اور اگر ان کی بڑی بہن نادیہ ان پر نظر نہ رکھتی تو وہ کیا بنتے اور جو وہ بنتے اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ عبد صمد موساوی لکھتے ہیں: جب زکریا برطانیہ جا رہا تھا تو میں خوش تھااور اداس بھی، خوش اس لیے کہ شاید زکریا کو اپنے خواب پورے کرنے کا، بزنس پڑھنے کا موقع مل جائےگا اور اداس اس لیے کہ میرا بھائی پہلی بار مجھ سے الگ ہو رہا تھا اور اداس اس لیے کہ اس کا میرے سوا کوئی دوست بھی نہیں تھا۔
برطانیہ کا تجربہ بھی اس کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا اور اس نے پہلی بار واپس آ کر بتایا کہ برطانیہ میں بھی رواداری صرف دکھاوے ہی کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس نے یہاں انگریزی بھی سیکھی اور بزنس میں ماسٹرز بھی کر لیا۔ لیکن اس کے بعد وہ تبدیل ہوتا گیا۔ پہلے جب وہ آتا تھا تو میری بیوی فوزیہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے پر اکساتا اور گھنٹوں اصرار کرتا کہ تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن جب وہ داڑھی بڑھا کر اور اوٹنگی پتلون پہن کر آیا تو اس کا رویہ تبدیل ہو چکا تھا۔ ایک رات جب، میں، وہ اور فوزیہ ٹی وی پر کوئی فلم دیکھ رہے تھے جس کے ایک منظر میں مرد عورت کی پٹائی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس منظر کو دیکھتے ہوئے زکریا نے کہا ’عورت کے ساتھ یہی کیا جانا چاہیے‘۔ آخری بار جب وہ آیا تو اپنی دوسری بڑی بہن جمیلہ کے پاس ٹھرا۔ جمیلہ کا کہنا ہے کہ ایک روز وہ بغیر بازوؤں کی قمیض پہن کر بازار جانے والی تھی کہ زکریا چیخنے لگا ’تم یہ رنڈیوں والا لباس پہن کر باہر نہیں جاؤ گی” پھر وہ کمرے میں چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد روتا ہوا باہر آیا اور رو رو کر مجھ سے اپنے کہے کی معافی مانگنے لگا۔ یہ اس زکریا کی ایک دھندلی سی تصویر ہے۔ جو کبھی ایسا خوش گفتار تھا لوگ اس کی باتوں پر ہنسے ہنسے رونے لگتے تھے۔ جسے سب انتہائی نرم مذاج اور مہذب سمجھا جاتا تھا۔ عبد صمد کا کہنا ہے کہ زکریا لندن میں وہابیوں کے ہاتھ چڑھ گیا جن کی تعداد مسلمانوں کی کل تعداد کا ایک فیصد کے لگ بھگ ہو گی لیکن ان کے پاس وسائل ہیں اور انہیں سعودی عرب جیسے ملک کی حمایت حاصل ہے۔
لیکن میرا خیال ہے یہ معاملہ اتنا آسان اور سیدھا نہیں ہے۔ لندن میں تعلیم کے دوران زکریا کی ملاقات بی بی سی کی روسی سروس کی پروڈیسر ڈینا نیومین سے ہوئی تو اس نے صرف یہ تفصیل جاننے کی کوشش کہ کیا اشتراکی نظام منصفانہ تھا؟ کیا روس میں بھی غریب لوگ ہوتے تھے؟ کیا اشتراکی نظام میں بھی نسل پرستی ہوتی تھی؟ کیا وہاں سب کو تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع ملتے تھے؟ مجھے ان سوالوں میں دبی ہوئی چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟ دہشت گردوں سے تعلق کا اعتراف کرنے والے زکریا موساوی کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے بار بار خیال آ رہا تھا کہ شاید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغرب میں تنگ نظری، تعصب اور نسل پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اگر ہو رہا ہے تو یہ کم از کم ایسے لوگوں کے لیے حیران کن نہیں ہو گا جو تاریخ، ثقافت اور تہذیب پر اقتصادی و معاشی تبدیلیوں کےاثرات پر یقین رکھتے ہیں۔ زکریا اور وہ بہت سے نوجوان جنہیں مغرب کی آزادی اور روشن خیالی بھی جہادی اور بی این پی جیسی منظم اور غیر منظم انتہا پسندی کی طرف جانے سے نہیں روک پا رہی اس بات کی واضح مثال ہیں کہ مغرب جس جمہوریت اور آزادی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے اس میں کہیں کچھ ایسا بھی ہے جو بے اعتباری کو فروغ دے رہا ہے۔ اگر ایک زکریا موساوی نے یہ محسوس کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس میں رنگ، نسل، ثقافت اور زبان کے امتیازات کے خلاف باتیں اور رواداری ایک دکھاوا ہیں تو کیا اس کا اطلاق برطانیہ اور فرانس پر ہی کیا جانا چاہیے یا انہیں صرف ایک زکریا موساوی کا معاملہ تصور کیا جانا چاہیے؟ اگر یہ محض ایک انفرادی معاملہ ہے تو اس میں تشویش کی کوئی بات نھیں قانون ایسے معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اگر یہ معاملے انفرادی نہیں اور نہ ہی ایک دو ملکوں تک محدود ہے جیسا کہ شاید بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں تو سوچیں کہ اگلے پچاس سال اس دنیا کے لیے کیا کچھ لانے والے ہیں؟ مجھے نہیں پتا اس صورتِ حال کے بارے سیموئیل پی ہیٹنگٹن کیا سوچ رہے ہوں گے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||