اور کتنے ہٹلر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ پانچوں ٹریکٹر پر اڑے جا رہے تھے، دو سال انتظار کرنے اور ساٹھ ہزار نقد چکانے کے بعد وہ اکیلے ٹریکٹر والے بننے والے تھے اور آس پاس، دور دور تک اب ان سا کوئی اور زمیندار کاشتکار نہ ہو گا۔ وہ اندھیرا ہونے سے پہلے ہی گاؤں میں داخل ہونا چاہتے تھے تا کہ ان کے اپنے گاؤں والے تو کم سے کم سونے سے پہلے ان کے ٹریکٹر کو گاؤں میں داخل ہوتا دیکھ لیں اور اسی وجہ سے صبح دیر سے اٹھیں۔ اسی ہوا اور وقت میں انہیں وہ سائیکل سوار دکھائی دیا جس کے قریب تک ٹریکٹر پوری رفتار کے باوجود تب تک نہ پہنچ سکا جب تک کہ سائیکل کی چین نہیں اتر گئی۔ سائیکل کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں لگا کہ ان کے ساٹھ ہزار اب کھرے ہوئے ہیں۔ لیکن سائیکل کی چین چڑھ گئی اور سائیکل سوار اس دھن میں پاؤں مارنے لگا کہ اگر ٹریکٹر کی رفتار پر قابو پا لیا تو ہندوستان بھر کا مقابلہ جیتنا اور عالمی مقابلے میں جانا پکا ہو جائے گا۔ پر یہ جو خواب ہوتے ہیں، یہ ان سانپوں کو چھپا دیتے ہیں جو سانپ سیڑھی والے کھیل میں ننانوے کے آس پاس منہ کھولے اس سانپ کو بھی دکھائی نہ دیتا بنا دیتے ہیں جو ہر بار بہت سوں کو واپس نو پر پہنچا دیتا ہے۔ سائیکل والا اپنی دھن میں پیڈل پر پیڈل مار رہا تھا اور ٹریکٹر والو ں کو لگنے لگا کہ ٹریکٹر کی پوری رفتار پر بھی سائیکل اور ٹریکٹر کے بیچ کا فاصلہ مسلسل کم ہو رہا اور ان کا یہ خیال بھی ٹھیک نہیں تھا کہ سائیکل والا مقابلے سے جان چھڑانے کے لیے چین اترنے کا بہانا لے کر بیٹھ گیا تھا۔ اگر سائیکل ٹریکٹر کو فاصلہ دے کر بھی آگے نکل گیا تو ان کے تو ساٹھ ہزار ہی کھوٹے نہیں ہوں گے ان کی ان اُجلی پگڑیوں کو بھی داغ لگ جائے گا جو انہوں شہر جاتے ہوئے پہلی بار پہنی تھیں اور وہ بھی سرمنڈے لونڈے اور ٹکے کی سائیکل کی وجہ سے۔ پانچوں نے ایک ہی طرح سوچا، ایک ہی طرح سمجھا اور ایک ہی فیصلہ کیا۔ سائیکل والا اپنے خوابوں کے حقیقت بنانے کی دھن میں پیڈل پر پیڈل مارتا ٹریکٹر کے پاس سے پاس ہوتا جا رہا تھا اور ٹریکٹر چلانے والے بھائی کی پوری کوشش کے باوجود سائیکل اور ٹریکٹر کے بیچ کا فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا تھا۔ ٹریکٹر کی پوری رفتار سے آگے تو وہ بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ سائیکل بگولے کی رفتار سے بڑھتی ہوئی آئی، ایک رینگتے ہوئے پل میں ٹریکٹر کے پچھلے بڑے پہیے کے برابر سے آگے نکلی اور اچانک تھوڑا سا دائیں مڑنے والے اگلے پہیے سے ٹکرا گئی۔ آپ نے ٹریکٹر تو دیکھا ہو گا؟ پچھلا پہیہ کیسا ہوتا ہے: اچھے بھلے عام آدمی کے قد کا، رفتار کے ساتھ کسی کے سر سے گزرے تو کیا بچے گا؟ ’ماں کا خصم ! ٹریکٹر سے آگے نکلنے کی جرات کر رہا تھا‘ ٹریکٹر پر بیٹھے ہووں میں سے کوئی ایک یا سب ایک ساتھ بُدبدائے۔ ان میں سے ایک، حادثے میں حقیقت کے رنگ کو اور گہرا کرنے کے لیے ٹریکٹر رکوا کر واپس سائیکل والے کے پاس گیا اور رم کی آدھی خالی بوتل اس کے منہ سے لگا دی اور تھوڑی سی گرنے کے بعد باقی بوتل وہیں توڑ دی۔ میں کہانی کے اس خلاصے میں کچھ اور شامل کرنا نہیں چاہتا اور آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ چودہ سال پہلے کی پڑھی ہوئی یہ کہانی مجھے گیارہ ستمبر کو کیوں بہت یاد آئی؟ اس کے ساتھ ہی مجھے آنجہانی سوویت یونین بھی یاد آیا اور اس کے ’ٹریکٹر والے‘ بھی۔ میں نے خود سے پوچھا: اگر ہم گورباچوف کی کشادگی اور تعمیرِ نو سے آشنا نہ ہوئے ہوتے تو کیا اکیلے ٹریکٹر والے سائیکل والوں کے ساتھ اور وہ جو سائیکل والے بھی نہیں تھے، یہی کرتے جو گیارہ ستمبر کے بہانے کیا گیا؟ برا نہ مانیے گا لیکن میں کیا کروں، اِس مہذب دنیا کی دو منہ والی ترقی یافتہ جمہوریت اور آزادی کو، جمہوریت اور آزادی کہتے ہوئے مجھے ویسی ہی شرم سی آتی ہے جیسی یہودیوں سے ہٹلر کے سلوک پر، فلسطینیوں سے یہودیوں کے سلوک پر، اسٹالن اور اس کے بعد کے روس پر اور تھنہ من سکوائر کے واقعات پر اور اور ۔ ۔ ۔ کیوں اس کا جواب آپ خود ڈھونڈیں۔ میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وجےدان دیتھا راجستھان کے کہانی کار ہیں، بہت بڑے کہانی کار، بڑائی ان کی یہ ہے کہ دوسرے کئی کہانی کاروں کے برخلاف ان کے ہاں عمومیت، ماحول اور روزمرہ کے محاورے کہانی بنتے اور خصوصیت اختیار کرتے ہیں۔ وہ افسانہ نگار نہیں کہانی کار ہیں اور خود ایک کہانی بھی۔ان کا بہت سا کام شائع ہوا ہے پر نہیں کہا جاسکتا کہ کتنا انگریزی میں ہے، کتنا ہندی میں اور کتنا راجستھانی میں۔ اور ان کی یہ کہانی انیس سو نوے کے لگ بھگ اجمل کمال کے ہاں آج میں شائع ہوئی تھی اور اس کا عنوان تھا: ’ کتنے ہٹلر‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||