پاکستانی کتابیں دِلّی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس اگست سے دِلّی میں تاریخ میں پہلی بار پاکستانی کتابوں کا میلہ شروع ہورہا ہے جو پانچ روز تک جاری رہے گا۔ جمعہ کی صبح لاہور سے اکہتر ناشر اور کتب فروش ایک خصوصی دوستی بس کے ذریعے دِلّی گۓ جبکہ وہ تقریبا اڑھائی لاکھ کتابیں پہلے سے دلی بھیج چکے ہیں۔ آل پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے پنجاب اور سرحد کے زونل چئرمین مظہر مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ دلی کے پرگتی میدان میں یہ کتاب میلہ ہندوستان پبلشرز ایسوسی ایشن کی دعوت پر منعقد کیا جارہا ہے۔ باون ایکڑ پر پہلا پرگتی میدان نمائشوں وغیرہ کے لیے بہت سے ہالوں اور آڈیٹوریم پر مشتمل ہے اور اس کے کچھ حصہ کو پاکستان کے کتاب میلہ کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ پاکستان پبلشرز ایسوسی ایشن کے مطابق انہیں بہت رعایتی نرخوں پر اسٹالز دیے گۓ ہیں۔ پاکستان کے وفاقی سیکرٹری تعلیم اور نیشنل بک فاونڈیشن کے چئرمین اور معروف شاعر احمد فراز بھی اس میلہ میں شرکت کے لیے دِلّی گۓ ہیں جہاں ایک شام غزل اور اردو مشاعرہ بھی ہوگا۔ اس میں اور فنکاروں کے علاوہ ٹینا ثانی گائیں گی اور اس کی ٹکٹیں بہت پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں۔ پاکستان پبلشرز ایسوسی ایشن کے زونل چئرمین مظہر مہدی کے مطابق اس میلہ میں صرف پاکستانی کتابیں رکھی جائیں گی اور پاکستانی ناشر اردو ادب ، شاعری کے علاوہ بڑی تعداد میں مذہبی کتابیں لے کر گۓ ہیں کیونکہ ہندوستان میں ان کی بہت مانگ ہے۔ مظہر مہدی نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستانی ناشرین دِلّی کے کتاب میلہ میں گۓ تھے جہاں ان کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں اور کم پڑ گئیں۔ مظہر مہدی کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ناشر کسی کتاب کی پچاس ہزار کاپیاں بھی لے جائیں تو وہ دلی میں فروخت ہوجائیں گی۔ تاہم اس میلہ کے لیے ہر ناشر دو سے تین ہزار کتابیں لے کر گیا ہے۔ پبلشرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس کتاب میلہ سے ہندوستان اور پاکستان میں تعلقات کی بحالی کا عمل ایک قدم اور آگے جائے گا اور صرف کتابوں کا ہی نہیں اردو کا بھی فروغ ہوگا۔ عہدیدار کا کہنا ہے کہ لاہور میں اگلے سال مارچ میں سالانہ کتاب میلہ منعقد ہوگا جس میں ہندوستان کے ناشرین کو مدعو کیا جائے گا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کتابوں کی آزادانہ تجارت کی اجازت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||