گاڑی کی چوری روکنے کا نمبر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی‘ یعنی ’نادرہ‘ کے چیئرمین نے بتایا ہے کہ انہوں نے حکومت سے پاکستان میں چوری کی گاڑیوں کو تلاش کرنے کا کمپیوٹرائیزڈ نظام متعارف کرانے کی اجازت مانگی ہے۔ سلیم احمد معین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نادرہ‘ نے ایک ایسا کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس سے ملک بھر میں چوری ہونے والی گاڑیوں کو آسانی سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ’وہیکل آئیڈنٹیفکیشن اینڈ ٹریکنگ سسٹم‘ جسے وہ ’وٹز‘ بھی کہتے ہیں، کے تحت ایک نمبر جاری کیا جاتا ہے اور اس نمبر کے ہر ہندسے کی علیحدہ اہمیت اور کام ہے۔ اس نمبر کی مدد سے جہاں گاڑیوں کی چوری روکی جاسکتی ہے وہاں رجسٹریشن اور انشورنس وغیرہ سمیت مختلف معلومات بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں موجود ’ٹریکنگ‘ والے آلات کی نسبت ان کا نمبر کئی گنا سستا ہے۔ ’نادرہ‘ کے چیئرمین سلیم احمد معین کہتے ہیں کہ ان کے ادارے کے بارے میں عام تاثر ہے کہ یہ شناختی کارڈ بنانے کا ادارہ ہے لیکن حقیقیت یہ ہے کہ اب یہ ادارہ پاکستان میں ’انفرمیشن ٹیکنالوجی‘ یعنی ’آئی ٹی‘ کا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق نادرہ میں کام کرنے والے گیارہ ہزار ملازمین میں سے سات ہزار ’آئی ٹی‘ سے منسلک ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ پاکستان کا پہلا سرکاری ادارہ ہے جسے حکومت ایک روپیہ بھی بجٹ نہیں دیتی بلکہ اربوں روپوں کے سالانہ اخراجات کے لیے رقم ’نادرہ‘ اپنے وسائل سے خود حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی چوری روکنے کے لیے تیار کردہ کمپیوٹرائیزڈ نظام کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کو درخواست کی ہے کہ بجلی، فون اورگیس وغیرہ کے بل ادا کرنے کے لیے مشینیں نصب کرنے اور کمپیوٹرائیزڈ ٹریفک چالان کا نظام متعارف کرانے کی بھی تجاویز دی ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ ’نادرہ‘ کو دنیا میں اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک ایسا کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ تیار کیا ہے جس سے انگلیوں کے نشانات اور چہرے کی علامات کی بیک وقت کمپیٹرائیز شناخت کی جاسکتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں دونوں علامات کی بیک وقت شناخت کا نظام نہیں ہے۔ سلیم احمد معین نے کہا کہ ’نادرہ‘ نے مختلف اداروں کے آن لائن امتحانات لینے کا سافٹ ویئر بھی بنایا ہے اور کچھ اداروں میں بھرتیوں کے لیے انہوں نے امتحان بھی لیا ہے۔ ان کے مطابق اب وہ پاکستان فوج میں بھرتی کے لیے یہ طریقہ کار اپنانے کے لیے وزارت دفاع سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’نادرہ‘ نے چار کروڑ بیالیس لاکھ تئیس ہزار افراد کو تاحال کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ جاری کردیے ہیں۔ یہ شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کا انہوں نے’ ڈیٹا بیس‘ دکھایا اور کہا کہ اس کی بنیاد پر حکومت کے متعلقہ محکمے تعلیم اور صحت کی سہولیات غربت اور بے روزگاری کے متعلق ٹھوس اعداد و شمار کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور اس کی بنیاد پر حقیقی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ احتساب بیورو سمیت مختلف ایجنسیز نے ڈیٹا بیس تک رسائی کے لیے درخواست دی تھی لیکن نادرہ نے انہیں انکار کردیا کہ وہ تمام شہریوں کی ذاتی معلومات تک کسی کو بھی رسائی نہیں دے سکتے البتہ کسی بھی شخص کے بارے میں مقدمے وغیر کی صورت میں ذاتی معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ چیئرمین نے بتایا کہ شہریوں کی ذاتی معلومات سے ہٹ کر عام معلومات کو علئحدہ کرکے مختلف یونیورسٹیز اور لائبریریوں کو فراہم کریں گے تاکہ تحقیق کا کام ہوسکے۔ ان کے مطابق اس معلومات کے تحت کوئی بھی یہ جان سکتا ہے کہ کس گاؤں میں کتنے سکول ہیں اور کتنے بے روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ بے روزگاروں کی تعلیمی اور فنی حیثیت جیسی معلومات بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||