کراچی حملہ: لشکرِ جھنگوی پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ امام بارگاہ مدرسۃ العلم پر خودکش حملہ آوروں کا تعلق لشکرِ جھنگوی سے ہے۔ دوسری طرف کراچی میں ملیر کے علاقے جعفر طیار سوسائٹی میں ایک مسجد پر فائرنگ میں ایک ہلاک اور تیں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ مسجد فاروقیہ میں پیش آیا جو ملیر ٹاؤن کے علاقے ناد علی چوک پر ہے۔ مقتول کی شناخت مختار کے نام سے ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں زبیر، امجد اور نفیس شامل ہیں۔ جن کو جناح اسپتال لایا گیا ہے۔ ایم ایل او کا کہنا ہے کہ زخمی زبیر کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال سنگیں ہے اور متحارب گروہ ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ ٹی پی او ملیر عبدلحفیظ جونیجو کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے مسجد کے دروازہ کو ہلایا جس وجہ مسجد فاروقیہ کا بورڈ نیچے گرگیا۔ جس پر پیش امام اور نوجوانوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ جس کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ گلیوں میں کی گئی ہے اور رینجرز نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا ہے۔ ٹی پی او کا کہنا ہے کہ اہلسنت اور اہل تشیع اس علاقے میں سکون سے رہتے تھے۔ پہلی مرتبہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے شک ہے کہ باہر کے لوگوں نے آ کر شرارت کی ہے۔ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہلاک ہونے والے ایک حملہ آور کا نام آصف تھا جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے کا تحسین ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پولیس کے تفتیش کاروں نے حملے میں زخمی ہونے والے ملزم کا نام مختلف بتایا تھا۔ قبلِ ازیں وزیرداخلہ رؤف صدیقی نے کہا یہ دونوں حملہ آور کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی تھے اور ان کا تعلق لشکر جھنگوئی کے آصف چھوٹو گروپ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے حملہ آور کی شناخت کے لیے تفتیش کی جارہی ہے۔ رؤف صدیقی نے کہا کہ آصف چھوٹو کے سر کی قیمت پندرہ لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاہ نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||