مجلس: کراچی میں پہیہ جام کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے رہنما اسلم مجاہد کے قتل کے خلاف متحدہ مجلس عمل نے بدھ کے روز کراچی شہر میں پہیہ جام ہڑتال اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ منگل کے روز اسلم مجاہد کے جنازے کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اعلان کیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں امام بارگاہوں پر حملوں کے خلاف یوم احتجاج منایا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی ہے، فرقہ واریت نہیں ہے۔ قاضی حسین احمد نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں جاری دہشت گردی کے خلاف بدھ کے روز شہر میں ہڑتال کریں اور ملک بھر میں مظاہرے کریں۔ جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے اسلم مجاہد کو منگل کے روز کے نامعلوم افراد نے اغوا کرکے قتل کردیا تھا۔ ان کی نماز جنازہ مزار قائد کے سامنے ادا کی گئی جس کی امامت جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کی۔ اس موقع پر ایم اے جناح روڈ بند رہا۔ اور ایک احتجاجی جسلہ منعقد ہوا جس سے قاضی حسین احمد، سرحد کے وزیر خزانہ سراج الحق، سٹی ناظم نعمت اللہ خان، پی پی کے راشد ربانی، نواز لیگ کے فاروق خان اور کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے عبدالحفیظ نے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ شہر میں مسلسل ہونے والی دہشت گردی پر وہ شہریوں اور ملک کے لوگوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی میں ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو بلدیاتی انتخابات میں شکست سامنے نظر آرہی ہے، جس سے گھبرا کر ایسے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ اسلام آباد میں بم دھماکے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ بم دھماکہ کیا گیا اور پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ مذہبی جماعتوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ادھر لانڈھی اور کورنگی کے علاقے بند رہے۔ اسلم مجاہد کے قتل اور جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کے بعد کراچی میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے درمیان کشیدگی تیز ہوگئی ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاست کو پٹری سے اتارنے کی سازش کی گئی ہے۔اسلم مجاہد کا قتل کرکے ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد کراچی میں امن امان کو خراب کرنا، سیاسی عمل کو پٹڑی سے اتارنا اور صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے کارکن صبر و تحمل سے کم لیں۔ فاروق ستار نے جماعت اسلامی کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس سازش کو سمجھیں اور شہر کو بچائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||