BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 May, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تصویر جاری، مدد پر انعام کا اعلان

مشتبہ حملہ آور کی تصویر
مشتبہ حملہ آور کی تصویر
اسلام آباد میں واقع بری امام کے مزار پر ہونے والے بم دھماکے کے مشتبہ خود کش بمبار کی حکومت نے تصویر جاری کرتے ہوئے اس کی شناخت اور تحقیقات میں مدد کرنے والے کو انعام دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اس ضمن میں ملزم کی تصویر کی شناحت کرنے والے کو پانچ لاکھ روپے جبکہ تحقیقات میں مدد کرنے والے کے لیے بیس لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا ہے۔

جمعہ کے روز بری امام کے مزار کے پانچ روزہ سالانہ عرس کی آخری تقریبات کے موقع پر خود کش بم حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

سنیچر کے روز جہاں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے اعلیٰ پولیس حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ تفتیش کاروں نے بھی دوبارہ اس جگہ کا دورہ کیا۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزار پر ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ تھا اور ایسے بم حملوں کو روکنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے حملوں کو روکنے کی ہرممکن کوشش جاری رکھے گی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ مبینہ خود کش بمبار کے جسم سے نمونے لے کر ڈی این اے کے لیے بھجوا دیئے ہیں۔

متعلقہ جگہ پر چاروں طرف سے رسیاں باندھ دی گئی ہیں اور وہاں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے جوتوں کا ڈھیر اب بھی موجود ہے۔

پولیس کے دستے بھی علاقے میں گشت کرتے دیکھے گئے لیکن مزار کے آس پاس حالات معمول کے مطابق ہیں۔ مقامی لوگوں میں اس واقعہ کے خلاف غم و غصہ تو اب بھی ہے لیکن کوئی کشیدگی نہیں پائی جاتی۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق مقامی آبادی سے نہیں بلکہ آس پاس کے شہروں سے ہے۔

امام بری کے مزار پر خود کش بم حملے میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور چھیاسی زخمی ہوگئے تھے۔ ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ بیس لگایا گیا تھا۔

دھماکہ جمعہ کی صبح گیارہ بجے کے قریب اس وقت ہوا جب پانچ روزہ عرس کے آخری دن کی تقریبات جاری تھیں۔

پاکستان میں کسی صوفی بزرگ کی درگاہ پر خودکش بم حملے کا تو یہ پہلا واقعہ ہے۔ البتہ کچھ عرصہ قبل صوبہ بلوچستان کی ایک درگاہ پر ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

بری امام کا مزار وزیراعظم ہاؤس اور قائداعظم یونیورسٹی کے درمیان واقع ہے اور سفارتی علاقہ، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ کی عمارت اور سپریم کورٹ بھی اس جگہ سے بہت زیادہ دور نہیں ہیں۔

آئی جی پولیس کے مطابق فی الوقت یہ کہنا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ دہشت گردی ہے یا نہیں، قبل از وقت ہوگا۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم نے اس کو دہشت گردی کا عمل قرار دیتے ہوئے واقعہ پر افسوس ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے ورثا کے لیے ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔

حملے کے بعد درگاہ کی چار دیواری کے اندر صدر دروازے کی دائیں جانب لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد