مسجد پر حملہ،4 افراد کوسزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سن دو ہزار دو میں مسجد پر حملہ کر کے چودہ شیعہ نمازیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں چار افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ راولپنڈی کے علاقے خیابان سر سید میں واقع ’شاہ نجف مسجد‘ میں مغرب کے وقت نمازیوں پر حملہ کیا گیا تھا جس میں بارہ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ شدت پسندی قرار دیا تھا اور بدنام شدت پسند اکرم لاہوری اور ان کی کالعدم جماعت کے مبینہ کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ سزائے موت پانے والے چاروں افراد کا تعلق کالعدم انتہا پسند سنی تنظیم لشکرِ جھنگوی سے ہے۔ پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ہے۔ لشکرِ جھنگوی کے ان اراکین کو یہ سزا انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مقدمہ کی ایک سالہ سماعت کے بعد سنائی۔ راولپنڈی پو لیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام پانچ افراد کی بریت کے خلاف اپیل کریں گے۔ یہ بات معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ سزا یافتہ افراد اپیل کریں گے یا نہیں۔ جمعرات کو پشاور کی ایک عدالت نے ایک شخص کو ایک شیعہ لیڈر کے قتل پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان میں 1980 سے اب تک تقریباً چار ہزار افراد فرقہ وارانہ وارداتوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||