امام بارگاہ میں دھماکہ، کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اندرون لاہور کی تنگ گلیوں کے بیچ واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد میں خودکش بم دھماکے کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے اور مشتعل افراد نے پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے بعد انہیں امام بارگاہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے سے باہر نکال دیا ہے۔ تاہم گردو ونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ رات گئے مشتعل افراد نے اندرون شہر کے باہر سرکلر روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلا کر دی اور حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ایک گھنٹہ تک ٹریفک بلاک کیے رکھنے کے بعد مظاہرین واپس امام بارگاہ کی طرف چلے گئے۔ اس سے قبل دھماکے بعد پولیس نے جب لاشیں اٹھالی تھیں تو مکینوں کے ایک گروپ نے مشتعل ہوکر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور لاہور پولیس کے ایک افسرکو بھی دھکے دیے گئے، چند اہلکاروں کی خاصی پٹائی کی گئی جس کے بعد پولیس نہ صرف امام بارگاہ اور اس سے ملحق مسجد بلکہ اس کے ارد گرد کی تنگ گلیوں سے بھی نکل گئی۔ ان کی جگہ لٹھ بردار مقامی افراد نے نگرانی شروع کردی۔ رات گئے تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد لاٹھیاں لیے امام بارگاہ حسینیہ اور اس سے ملحق مسجد کشیمریاں میں موجود تھی اور کسی اجنبی کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مشتعل افراد نے صحافیوں کو بھی زدو کوب کیا اور دو صحافیوں کے کیمرے بھی توڑ دیے گئے۔ رات کے پچھلے پہر پولیس کے اہلکاروں کو اندر جانے کی اجازت تو مل گئی لیکن لوگوں میں اشتعال پایا جا رہا تھا۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم مذہبی مقامات امام بارگاہوں اور مساجد کے َآس پاس پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس نے ناکے بھی لگا دیے ہیں۔ را ت گئے تک لاہور پولیس کے افسروں کا اجلاس جاری تھا جس میں صبح امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ صبح تقریباگیارہ بجےہلاک ہونے والے تینوں افراد کی مشترکہ نماز جنازہ موچی گیٹ میں ہی ادا کی جاۓ گی تاہم اس موقع پر کسی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر پہلے ہی بڑی تعداد میں پولیس کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کو بتایاگیا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے دو کی میتیں بعدازاں صوبہ سرحد کے علاقوں کوہاٹ اور سوات روانہ کر دی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||