ملتان دھماکہ:ملزمان کےخاکےجاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے دو روز کی تاخیر سے ملتان میں جمعرات کی صبح ہونے والے کار بم دھماکے کے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ سُنی فرقہ سے تعلق رکھنے والی کالعدم انتہا پسند تنظیم سپاہِ صحابہ پاکستان کی ملتان شاخ کے سابق صدر انور شاہ نے تھانہ لوہاری گیٹ میں درج کرایا۔ دھماکہ ملتان کے رشید آباد علاقے میں سپاہِ صحابہ کے مقتول رہنما مولانا اعظم طارق کی پہلی برسی کے سلسلے میں ہونے والی تقریب کے اختتام کے وقت ہوا جب لوگ جلسہ گاہ سے جا رہے تھے۔ دھماکے میں انتالیس افراد ہلاک جبکہ سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ مُدعی انور شاہ نے الزام لگایا ہے کہ واقعہ میں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والی کوئی انتہا پسند تنطیم ملوث ہے۔ تاہم انہوں نے نہ تو کسی تنظیم کا اور نہ ہی کسی فرد کا نام لیا ہے۔ دریں اثناء پولیس نے واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث دو ملزمان کے خاکے جاری کیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ خاکے ایک شخص ذیشان کی مدد سے تیار کیے گۓ ہیں۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی سوزوکی مہران کار واقعہ سے چند روز قبل نیو ملتان کے علاقے میں ذیشان سے چھینی گئی تھی۔ نیو ملتان تھانہ میں اِس کے بارے میں ایک مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کے رشید آباد میں ہونے والی ہلاکتوں میں وہی لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جنہوں نے کار چھینی تھی۔ پولیس نے کئی لوگوں کو شبہ کی بنیاد پر شاملِ تفتیش بھی کیا ہوا ہے۔ تاہم حکام کسی فرد کے باقاعدہ گرفتار ہونے کی تصدیق کرنے سے اِنکاری ہیں ۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیرِاعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے ملتان کے ضلع ناظم ریاض حسین قریشی سے تحریری وضاحت طلب کی ہے کہ انہوں نے کیوں ایک کالعدم تنظیم کو جلسہ کرنے کی اِجازت دی۔ رابطہ کرنے پر ضلع ناظم نے بتایا کہ اُن سے ایک تنظیم اہلسنت و الجماعت نے مولانا اعظم طارق کی برسی کے موقع پر جلسہ کرنے کی اجازت مانگی تھی جو ضلعی امن کمیٹی سے مشاورت کے بعد دے دی گئی۔ مولانا اعظم طارق کو پچھلے سال چھ اکتوبر کو اسلام آباد میں نامعلوم حملہ آوروں نےفائرنگ کر کے اُس وقت قتل کردیا تھا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||