BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 October, 2004, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں حفاظتی اقدامات ، گرفتاریاں

پاکستان سیکیورٹی
سیالکوٹ اور ملتان میں بم دھماکوں کے بعد پنجاب میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے
گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں مسجد اور ملتان میں مذہبی اجتماع میں دھماکوں سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد آج جمعہ کے روز پنجاب بھر میں پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور چودہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

آج لاہور میں ہر بڑی مسجد کے باہر پولیس معمول سے زیاد تعداد میں موجود ہے اور کئی مساجد میں جامہ تلاشی کے بعد لوگوں کو اندر جانے دیا گیا۔ شہر میں باہر کے ضلعوں سے پولیس کی اضافی نفری منگوا کر تعینات کی گئی ہے۔

جعمرات کو وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو نماز کے علاوہ تمام مذہبی اجتماعات اور جلسے اور جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

آج کالعدم سنی تنظیم سپاہ صحابہ سے وابستہ مساجد میں گذشتہ روز ملتان میں ہونے والے کار بم دھماکے سے ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی جلسے کیے گیے۔ تاہم حکومت کی طرف سے عوامی اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی لگائے جانے کے باعث یہ احتجاج مساجد کے اندر محدود رہا۔

ملتان میں کاروباری ادارے ہفتہ وار تعطیل کے باعث بند رہے تاہم تعلیمی ادارے انتظامیہ نے دو روز کے لیے بند کردیے ہیں۔ دوپہر کے وقت فوج اور پولیس کے دستوں نے شہر کا گشت کیا۔ اور نشتر ہسپتال اور دوسرے مقامات پر فوج کے جوان موجود رہے۔

جامعہ مسجد رشیدیہ کے ، جس کے قریب کل دھماکہ ہوا تھا، باہر جمعہ سے پہلے کچھ لوگوں نے احتجاج کیا ، گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور ٹائروں کو آگ لگائی۔ تاہم پولیس نے جلد مظاہرین کو منتشر کردیا۔

ملتان اور فیصل آباد میں پولیس نے کالعدم شیعہ تنظیم سپاہ محمد سے وابستہ ایک درجن کے قریب افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے گزشتہ روز ہونے والے دھماکہ کے بارےمیں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

سیالکوٹ میں جہاں گزشتہ جمعہ کے روز دھماکہ سے اکتیس افراد ہلاک ہوئے تھے آج شیعہ تنظیموں نے ملتان کے واقعہ کے بعد اپنا احتجاج کا پروگرام منسوخ کردیا اور اہل حدیث کانفرنس جو آج سے تین روز کے لیے شروع ہونے تھی اسے بھی ملتوی کردیا گیا۔ تاہم شہر میں تعلیمی ادارے آج بھی بند رہے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے سیالکوٹ کی طرح ملتان میں دھماکہ کے ذمہ دار افراد کی نشان دہی پر ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ملتان میں جمعہ کو فوج نے گشت کیا اور جمعہ کے اجتماعات میں دہشت گردی کے واقعات کے خدشے کے پیش نظر تمام مساجد پر پولیس تعینات رہی۔

تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں جمعہ کے اجتماعات پولیس کے پہرے میں ہوئے۔

اسلام آباد میں بھی اہلِ تشیع نے ایک مقامی امام بارگاہ سے جلوس نکالا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو گھیرے میں لے لیا اور جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جلوس کے شرکاء پولیس اور مقامی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد جلوس کو پرامن طور پر منتشر کرنے پر رضامند ہوگئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد