ملتان: معلومات پر ایک کروڑ کا انعام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیر اعلی نے اعلان کیا ہے کہ ملتان کے واقعے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ دوسری طرف کالعدم تنظیم ملت اسلامیہ پاکستان نے آج ملک بھر میں اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز ملتان میں جمعرات کو مولانا اعظم طارق کی برسی کے اجتماع میں دھماکہ سے ہونے والی ہلاکتوں پر پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی نے ملتان کی ضلعی حکومت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے ایسے اجتماع کی اجازت کیوں دی جس پر صوبائی حکومت کی طرف سے پابندی عائد ہے۔ وزیراعلی پنجاب کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضلعی حکومتوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کالعدم تنظیموں کو کسی بھی نام سے اجتماع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود ملتان کی ضلعی حکومت کی طرف سے ایسے اجتماع کی اجازت دینا ناقابل فہم ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ لاہور میں منعقد کیا جانے والا مولانا اعظم طارق کی برسی کا اجتماع پنجاب کے محمکہ داخلہ کی اجازت کے بغیر منعقد ہوا اور اس کی اجازت دے کر لاہور کی ضلعی حکومت نے صوبائی حکومت کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ وزیراعلی نے ملتان کی ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن حکومت ان کے عزائم ناکام بنا دے گی۔ اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری کے لیے حکومتی اداروں کو تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیراعلی نے دھماکے میں مرنے والوں کے ورثا کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار فی کس دینے کا اعلان کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||