ڈیرہ غازی خان میں شیعہ ڈاکٹر قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ غازی خان شہر میں ایک شیعہ لیڈی ڈاکٹر کو اتوار کے روز کسی نامعلوم شخص نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ڈاکٹر کے قتل پر فرقہ وارانہ واردات کا شبہ کیا جا رہا ہے۔ چھپن سالہ گائناکالوجسٹ ثریا نثار ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ہسپتال میں ملازم تھیں اور ایک نجی ہسپتال الزہرہ کی مالک تھیں۔ اتوار کی سہ پہر ایک نامعلوم شخص ہسپتال میں داخل ہوا اور اس نے ڈاکٹر ثریا کا پوچھا۔ جب وہ آپریشن تھیٹر سے باہر آئیں تو ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ ڈاکٹر ثریا فائرنگ کے سبب موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں جبکہ حملہ آور پیدل ہی وہاں سے فرار ہوگیا۔ ایک ڈسپینسر ابراہیم بھی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا اور اسے ضلعی ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ شیعہ رہنما اظہار بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر ثریا ایک جانی پہچانی شیعہ اور سرگرم سماجی شخصیت تھیں۔ ان کے قتل کا بظاہر محرک فرقہ وارانہ دہشت گردی ہی دکھائی دیتا ہے۔ لاہور میں مغل پورہ کے علاقے میں ایک ہی شیعہ خاندان کے پانچ افراد کے قتل کے بعد یہ دوسری فرقہ وارانہ واردات ہے جو حالیہ دنوں میں پنجاب میں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں درجنوں شیعہ ڈاکٹر الگ الگ حملوں میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||