مفتی قتل: کراچی، کوئٹہ میں مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں اتوار کی صبح مذہبی رہنما مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل کے بعد کوئٹہ اور کراچی میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ مفتی شامزئی کو چند نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ مفتی شامزئی کے قتل کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان کے حامیوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور ایک تھانے کو آگ لگا دی ہے۔
شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے باوجود صوبائی وزیر بلدیات حافظ حسین احمد شرودی اور رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے شہر کے عین وسط میں جلسے سے خطاب کیا جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ ریلی میں شامل افرادنے قطبے اٹھا رکھے تھے اور زبردست نعرہ بازی کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے سب کچھ مرکز میں فوجی جرنیل کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کے فوجی صدر پرویز مشرف اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے جو کے اس ملک میں رہنے والوں کی بدقسمتی ہے ۔ مولوی نور محمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں علماء محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی دینی مدرسے محفوظ ہیں جس کی ساری ذمہ داری جنرل پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے گورنر سندھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مشرف کی حکومت میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو حکومت کو کئی مقدمات میں مطلوب رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے پاکستان میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اداروں کا کام ہے اور ان کا سب کو پتہ ہے۔
اس سے قبل کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار نے اطلاع دی ہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی اتوار کی صبح آٹھ بجے کے قریب جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے قریب اپنی رہائش گاہ سے گاڑی میں باہر آ رہے تھے کہ اچانک نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ ایک سے زیادہ گاڑیوں میں سوار حملہ آور مفتی شامزی پر گولیاں برسا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ شامزئی کو جنہیں اس حملے میں کئی گولیاں لگی تھیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔زخمیوں میں ان کا ایک بیٹا، ڈرائیور اور گارڈ شامل ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ مفتی شامزئی کا شمار ان سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا جن کے طالبان سے قریبی روابط تھے۔ پچھہتر سالہ شامزئی نے مذہبی جماعتوں کی طرف سے افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ مفتی شامزئی نے افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا جس میں مسلمانوں سے جہاد کی اپیل کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||