کالے جادو کے لیے بچوں کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیخوپورہ پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ مہینے مریدکے میں قتل کیے جانے والے تین بچوں کے قتل کے الزام میں دو افراد کو گرفتار ہے جنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے کالا جادو سیکھنے کے لیے بچوں کو ہلاک کیا۔ شیخوپورہ کے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) چودھری نواز وڑائچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس نے کالے جادو کرنے والے ایک ملنگ امداد حسین اور اس کے شاگرد حافظ ارشد نائی کو داؤکی نامی گاؤں سے آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق امداد حسین تھانہ ٹھیکری والا چک ج ب ضلع فیصل آباد کا رہنے والا ہے اور پانچ سال سے داؤکی گاؤں میں رہ رہا ہے اور کالے جادو کا دھندا کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص حافظ ارشد نے امداد حسین کی شاگردی اختیار کرلی اور کالا علم سیکھنے کے لیے چلہ کاٹنا شروع کیا۔ کالا علم سیکھنے کے لیے امداد حسین نے اپنے شاگرد کو تین کمسن بچوں کا خون لانے کو کہا تو اس نے تہمینہ ریاض، رمضان اور تحسین کو قتل کیا اور ایک بچہ زین العابدین زخمی کیا۔ پولیس نے دونوں ملزموں کو بھی پریس کے سامنے پیش کیا جنھوں نے اپنے اوپر لگاۓ گۓ الزام کا اعتراف کیا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس کو گمراہ کرنے کےلیے دونوں ملزموں نے کئی طریقے اختیار کیے لیکن پولیس کے تفتیشی افسر مرید بن کر قاتلوں کو بےنقاب کرنے میں کامیاب ہوگۓ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||