مولانا شامزئی کے حالاتِ زندگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مولانا نظام الدین شامزئی کا شمار پاکستان کے انتہائی محترم علمائے دین میں ہوتا تھا۔وہ سوات کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے اور درس نظامی کی تکمیل کراچی میں کی۔ انہوں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں مولانا سلیم اللہ خان اور مولونا اسفند یار جیسے علماء شامل تھے۔ وہ چھتیس برس تک مختلف دینی مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور انیس سو چورانوے میں انہیں جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث کے منصب پر فائض کیا گیا۔ مفتی نظام الدین نے افغانستان پر روسی حملے کے خلاف افغان مجاہدین کے شانہ بہ شانہ جدوجہد کی اور انہیں مجاہدین کا ہی نہیں طالبان کا بھی سرپرست سمجھا جاتا تھا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو انہوں نے امریکہ کے خلاف فتویٰ جاری کیا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اب دنیا کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی جمعیت علمائے اسلام کی مجلسِ شوریٰ کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مجلسِ تحفظِ ختم ِ نبوت کے بھی تا حیات رکن تھے۔ انہوں نے تبلیغ دین کے لیے برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور دیگر ممالک میں بھی لیکچر دیے۔ پاکسستانی عوام کے لیے مولانا شامزئی کی شناخت کچھ اور تھی، وہ ہر ہفتے پاکستان کے روزنامہ جنگ میں عوام کی جانب سے کیے جانے والے دینی سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||