لاہور: معلم دو بھائیوں سمیت ذبح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر لاہور میں ایک دینی مدرسہ کے معلم اور اس کے دو چھوٹے بھائیوں کو پراسرار طور ذبح کر دیا گیا۔ تینوں کی نرخرہ کٹی لاشیں دینی مدرسہ میں سے برآمد ہوئیں ۔تاہم ملزموں کا سراغ مل سکا نہ ہی قتل کے محرکات کاتعین ہوسکا۔ ہلاک ہونے والے دو بھائیوں چوبیس سالہ استاد حافظ محمد اقبال اور چودہ سالہ حافظ محمد رفیق کی لاشیں حجرے میں جبکہ تیسرے سترہ سالہ محمد رفیق کی لاش مرکزی کمرے میں پڑی تھی ۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن چودھری شفقات نے بتایا ہے کہ ان کے گلے کسی تیز دھار آلے سے کاٹے گئےہیں ۔ ہلاک ہونے والے دو بھائی حافظ قرآن تھے ۔ جبکہ ان تینوں کا تعلق کشمیر سے تھا اور وہ سنی مسلمان تھے ۔ باغبانپورہ میں پچیس دسمبر سنءدوہزار دو میں دینی مدرسہ جامعہ مدنیہ مشکور شروع کیا گیا تو حافظ محمد اقبال وہاں کے انچارج معلم تھے۔ انکے ہمراہ قتل ہونے والا انکا ایک بھائی تین چار ماہ سے انکے پاس قیام پذیر تھا جبکہ تیسرا صرف تین روز قبل آیا تھا۔ پولیس تاحال کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی تاہم مخالف فرقہ کے لوگوں کی کارروائی اور ذاتی دشمنی جیسے پہلوؤں پر بھی تفتیش ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||