کراچی حملہ، ہنگامے: 11 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کےگلشن اقبال علاقے میں پیر کے روز ایک شیعہ مسجد پر حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ مسجد پر خود کش حملے کے دوران دو حملہ آور اور ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی مارے گئےتھے۔ جبکہ دو نمازی ہلاک اور بائیس افراد زخمی ہوگئے۔ شیعہ مسجد پر خودکش حملے کے رد عمل میں ہونے والے ہنگاموں میں جو رات گئے تک جاری رہے امریکی ریسٹورنٹ کے ایف سی کو آگ لگا دی گئی۔ اس ہوٹل کی عمارت سے بعد میں چھ افراد کی لاشیں ملیں۔ گلشن اقبال کےعلاقے میں نیپا چورنگی کے پاس مسجد مدرسۃ العلم پر خودکش حملے کے فورا بعد لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ واقعے کے بعد کیپیٹل سٹی پولیس چیف طارق جمیل اورڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاہ نے معائنے کے لئے مسجد تک جانے کی کوشش کی تھی لیکن مشتعل ہجوم نے انہیں شدید نعرے باری، پتھراؤ اور مزاحمت کرکے روک دیا اور وہ واپس چلے گئے۔ مشتعل ہجوم نے کے ایف سی کے علاوہ تین پیٹرول پمپ اور ایک درجن سے زائد گاڑیوں کو ندر آتش کردیا گیا۔ایک درجن دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ رات کو دیر سے علاقے میں رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیا تھا اور شہر میں جاری کشیدگی کے باعث منگل کے روز انٹر کا ہونے والا پرچہ ملتوی کر دیا گیا۔ کراچی میں منگل کے روز اب بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک اور لوگوں کی آمدرفت کم ہے۔ اخبارات کے اسٹالوں پر لوگوں کا رش ہے جو تازہ ترین صورتحال اور واقعات کی تفصیلات معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اب صورتحال معمول پر آگئی ہے۔ گلشن اقبال کے ایس ایچ او جمشید نے بتایا کہ علاقے میں اب حالات معمول پر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||