کراچی: امام بارگاہ پر خودکش حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں مسجدِ مدینۃ العلم پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ خودکش حملہ آور نےاس وقت مسجد پر حملہ کیا جب وہاں نماز مغرب ادا کی جا رہی تھی۔ تین حملہ آور اور ایک پولیس اہلکار مارا گیا ہے موقع پر ہی مارے گئے۔ ٹی پی او گلشن اقبال کا کہنا ہے کے چار دہشتگردوں نےمسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہاں تعینات ہیڈ کانسٹیبل نےان کو روکنے کی کوشش کی جس پر ایک حملہ آور نے اس سےگن چھین کر اس پر فائرنگ کردی جبکہ ایک حملہ آور نے آگے بڑھ کر خود کو بم سے اڑا دیا۔ وہاں موجود دو کانسٹیبلوں نے فائرنگ کر کے دو دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ جبکہ گلشن پولیس سٹیشن پر رابطہ کیا گیا تو اے ایس آئی سادات نے بتایا کہ ایک زخمی بمبار کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ کے قریب لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں میں سے دو نمازی ہیں جن کے نام محمد علی اور فداحسین بتائے گئے ہیں۔ دونوں چچا زاد بھائی ہیں اور ان کا تعلق گلگلت سے ہے۔ ہلاک ہونے والا تیسرا شخص پولیس ہیڈ کانسٹیبل راجا ارشد ہے جب کہ باقی دو خودکش حملہ آور ہیں۔ درین اثناء کشیدگی کے باعث منگل کو کراچی میں انٹر کے پرچے ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ کراچی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے حکام کے ایک اعلان کے مطابق انٹرمیڈیٹ درجے کا منگل کو ہونے والا پرچہ مدرسۃ العلم میں دھماکوں کے بعد شہر میں جاری کشیدگی کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد مشتعل لوگوں نےکئی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا اور ایک ریسٹورنٹ کو آگ بھی لگا دی ہے۔ وزیر داخلہ رؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہائی الرٹ کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ کراچی میں ایک دم حالات کیوں خراب کیے جا رہے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||