’کراچی تشدد میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ یعنی ’ایم کیو ایم، کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے اور بدامنی پھیلا کر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مذہبی جماعتوں پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور یہ جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سازش ہے وہاں حکمران مسلم لیگ کے خلاف بھی ہے۔ تاہم انہوں نے خفیہ ہاتھ کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کا مقصد جولائی میں ہونے والے مجوزہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانا یا انہیں پرتشدد بنانے کی کوشش کرنا ہوسکتا ہے۔ کراچی میں چند روز قبل جماعت اسلامی کے مقامی رہنما کو نامعلوم افراد نے اغوا کر کے قتل کردیا تھا اور جماعت کے رہنما قاضی حسین احمد نے اسے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے قتل کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا تھا۔ ایم کیو ایم نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے جماعت اسلامی پر جوابی الزامات بھی لگائے تھے۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکیں بھی پیش کر رکھی ہیں۔ جمعہ کے روز پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس بیک وقت جاری رہے۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ کا اجلاس تو نماز جمعہ سے قبل ہی ملتوی کر دیا گیا لیکن ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی نماز کے وقفے کے بعد دوبارہ بلایا گیا۔ دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو ڈاکٹر فاروق ستار نے تقریر شروع کی اور کچھ ہی دیر بعد سید خورشید شاہ نےکورم کی نشاندہی کردی۔ سپیکر نے گھنٹیاں بجائیں اور پھر بھی کورم پورا نہیں ہوا تو اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا۔ موجودہ اسمبلی میں مسلم لیگ کی حکومت کی واضح اکثریت کے باوجود بھی جتنی بار کورم ٹوٹا ہے وہ ماضی میں کسی بھی حکومت سے زیادہ ہے۔ جمعرات کے روز رات گئے تک جاری اجلاس میں جب حکومت ایک بل منظور کرا رہی تھی تو ان کے اراکین کی کم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اختلاف نے ایک موقع پر ووٹنگ کا اصرار کیا اور حکومت کو شرمندگی کا سامنہ کرنا پڑا تھا۔ دو سو اراکین کی حمایت والی حکومت کورم کے لیے چھیاسی اراکین کی موجودگی بھی اکثر اوقات یقینی نہیں بنا پاتی۔ حکومتی اراکین کی عدم دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ کئی اراکین وزیر، پارلیمانی سیکریٹری اور قائم کمیٹی کے چیئرمین نہ بنانے جانے پر ناراض ہیں جبکہ کئی حکومتی اراکین کے اپنے حلقوں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حکومت اس تاثر کی تردید کرتی رہتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اراکین ’مصروفیت‘ کی وجہ سے ایوان سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||