ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 |  حب میں مبینہ رحمان ڈاکو کا گھر جس پر پولیس اور رینجرز نےکارروائی کی |
کراچی پولیس کو انتہائی مطلوب ملزم رحمان ڈکیت کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان کو عدالت نے بے گناہ قرار دے کر بری کردیا ہے۔ پولیس افسران نے ان ملزمان کی شناخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پولیس نے اس سال تین جنوری کو لیاری کے علاقے کلاکوٹ سے مقابلہ کہ بعد سات ملزمان نذیر عرف بلا، خلیل الرحمان، بابر، افتخار، سجاد احمد، فرید اور محمد علی کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ ایک ملزم شاہنواز مقابلے میں مارا گیا تھا۔
اس مقابلے میں ایس ایچ او شوکت شاہانی اور ہیڈ کانسٹیبل منظور زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے ان سے کلاشنکوف اور دستی بم بھی برآمد کرنے کی دعویُ کیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد نور خان کے سامنے مقابلے میں زخمی ہونے والے ایس ایچ او اور ہیڈ کانسٹیبل منظور نے گرفتار ملزمان کی شناخت سے انکار کیا اور عدالت کو بتایا کہ پولیس سے مقابلہ کرنے والے یہ ملزم نہیں تھے۔ عدالت نے ان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔  |  مبینہ مقابلے کے بعد ایک زخمی کو لے جایا جا رہا ہے |
واضح رہے کہ بلوچستان کے علاقے حب میں پولیس مقابلہ کے بعد رحمان ڈکیت کے گھر کو بموں سے زمیں بوس کردیا گیا تھا جبکہ پولیس نے رحمان کے ایک بھائی کو مقابلہ میں مارنے کا دعوی کیا تھا۔ جس کے بعد رحمان نے اس کارروائی میں ملوث پولیس والوں کے گھر بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی اور اس کا دھمکی آمیز خط اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد سے کراچی پولیس میں رحمان ڈاکو کا خوف ہے۔ |