BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: ’ریٹائرڈ‘ ڈاکوؤں کی جاگیر

قادر چاچڑ
پاکستان کے صوبہ سندھ کے بالائی ضلع گھوٹکی کے بدنام زمانہ ڈاکوؤں کے ایک گینگ نے جرائم چھوڑ کر زمینداری شروع کردی ہے اور اب وہ خود کو ’شریف اور زمیندار ڈاکو‘ کہتے ہیں۔

اپنی نوعیت کے ان انوکھے مگر خطرناک ڈاکوؤں کے گینگ کے سرغنہ غلام النبی چاچڑ اور ان کے بھائی غلام قادر عرف قادری چاچڑ ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کے چالیس سے پچاس ڈاکو ان کے ٹولے میں شامل ہیں۔

انہوں نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے گیمڑو پولیس سٹیشن کی حدود میں محکمہ جنگلات کی چار سو ایکڑ کے قریب زمین سے درخت کاٹ کر کاشت شروع کردی ہے۔

ان دنوں جنگلات میں تاحد نظر کپاس کے لہلاتے کھیت نظر آتے ہیں۔ ان کی کاشت کسان کرتے ہیں جن میں مقامی لوگوں کے علاوہ پنجاب سے آئے ہوئے بھٹی قبیلے کے افراد بھی شامل ہیں۔ ایک کسان عالم شیر کے مطابق زمین ڈاکوؤں کی اور محنت ان کی ہے اور منافع میں وہ ففٹی ففٹی حصہ دار ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ان لوگوں کو سالانہ بیس سے پچیس لاکھ سالانہ گندم جبکہ چالیس سے پینتالیس لاکھ روپے کپاس سےآمدن ہوتی ہے۔

قادری چاچڑ نے بتایا کہ سن پچیانوے میں ان پر صرف ایک مقدمہ تھا اور جب انہیں انتیس مبینہ جرائم پیشہ افراد کے ہمراہ پولیس عدالت میں پیش کرنے کے بعد واپس گھوٹکی لارہی تھی تو اچانک راستے میں اس وقت کے بدنام ڈاکو احمدو جاگیرانی نےحملہ کر کے کئی جرائم پیشہ افراد کو چھڑالیا تھا۔

اسلحہ
ان کے مطابق احمدو جاگیرانی اصل میں اپنے ساتھی قاسم جاگیرانی اور کوڑو لولائی کو پولیس قبضہ سے چھڑانا چاہتا تھا لیکن موقع پاتے ہی وہ (قادری) بھی فرار ہوگئے تھے۔ اس حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

قادری کے مطابق ان کے بڑے بھائی غلام النبی چاچڑ سن انیس سو چھیانوے میں سکھر جیل کی انتظامیہ سے ساز باز کر کے جیل کے اندر سے سرنگ کھود کر چار ساتھیوں سمیت فرار ہوگئے تھے۔

ان کے مطابق ابتدا میں وہ رضن چاچڑ کے گینگ میں شامل ہوئے لیکن بعد میں اپنا ٹولا بنایا اور غلام النبی اس ٹولے کا سرغنہ بن گیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بھائی فوج میں تھے لیکن پولیس چھاپوں کے بعد وہ بھی ملازمت چھوڑ کر ڈاکو بن گئے۔ پانچ چاچڑ بھائیوں میں سے تین اب بھی ڈاکو ہیں۔

قادری چاچڑ کا کہنا ہے کہ سن انیس سو چھیانوے کے آخر سے سن دو ہزار ایک تک انہوں نے ضلع گھوٹکی میں اغوا برائے تاوان، قومی شاہراہ بلاک کرکے بسوں اور ٹرکوں کے قافلے لوٹنے، قتل اور دیگر جرائم کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔

ان کے مطابق انہوں نے یہ عرصہ بالائی سندھ کے چار اضلاع گھوٹکی، جیکب آباد، سکھر اور شکارپور کے کچے کے علاقے میں واقع جنگلات میں گزارا۔

ان کے پاس آج بھی جدید اسلحہ ہے۔ جب میں نے ان ڈاکووں سے پوچھا کہ اتنا جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے تو قادری چاچڑ نے بتایا کہ پٹھان سمگلر جنگل میں جی تھری رائفل، کلاشنکوف، گرنیڈ، راکٹ لانچر، اینٹی ایئر کرافٹ گنیں اور دیگر ہتھیار لاتے ہیں۔ ’پیسے دیں اور جو چاہیں لے لیں‘۔

لہلہاتی فصلیں
اّن دنوں کچے کے علاقے میں تو کیا اس سے ملحقہ پکے (جہاں آبپاشی کی سہولت ہے) کے علاقے میں بھی سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے۔

غلام النبی کے مطابق وہ اپنے بچوں کو ڈاکو نہیں بلکہ پڑھا لکھا کر پولیس افسر بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انگلینڈ میں داخلہ ملے تو بھی وہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی سردار کو ملوث کیے ہوئے انہوں نے براہ راست گھوٹکی پولیس کے سربراہ کے ساتھ غیر اعلانیہ سمجھوتہ کر رکھا ہے کہ وہ جرائم نہیں کریں گے اور پولیس انہیں تنگ نہیں کرے گی۔

ان کے اس دعوے کے متعلق جب میں نےگھوٹکی کے ضلعی پولیس چیف آفتاب ھالیپوتہ سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں سے ان کا کوئی سمجھوتہ نہیں۔

البتہ ان کے مطابق پولیس ایسے جرائم پیشہ افراد جو اب جرم نہیں کرتےان کے خلاف کاروائی نہیں کرتی چاہے ماضی میں وہ کتنے بھی بڑے ڈاکو ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ جتنے بھی بدنام ڈاکو بنے وہ پولیس یا زمینداروں کے مظالم سے بنے۔

ڈاکو پولیس کے ساتھ سمجھوتے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کبھی غیر مسلح ہوکر نہیں چلتے۔ جمعہ کی نماز بھی باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ انہوں نے موبائل فون رکھے ہیں اور یہ ہی ان کا آپس میں موثر رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔

ڈاکو وڈیروں کے اس علاقے میں حکومت نے بجلی بھی فراہم کر رکھی ہے جس کا بل نہ ڈاکو دیتے ہیں اور نہ حکومت مانگتی ہے۔ مفت بجلی سے وہ ٹیوب ویل چلا کر فصلوں کے لیے پانی حاصل کرتے ہیں۔

یہ ڈاکو علاقے کے لوگوں کے تنازعات کا تصفیہ بھی کراتے ہیں۔ علاقے کے جدی پشتی سرداروں کے بعض فیصلے لوگ نہیں بھی مانتے لیکن ان ڈاکو سرداروں کا فیصلہ نہ ماننے کی کوئی جرآت نہیں کرتا۔

چاچڑ ڈاکوؤں کے اس گینگ کے سرغنہ غلام النبی نے حال ہی میں بیٹوں کے ختنے کے موقع پر دعوت دی جس میں ان کے بقول آٹھ ہزار مہمان شریک ہوئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شاید ہی علاقے کا کوئی زمیندار، افسر یا ڈاکو شریک نہ ہوا ہو۔ان کے مطابق انہیں بیٹوں کے ختنوں کی تقریب کے موقع پر تیرہ لاکھ روپے سلامی ملی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد