BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 September, 2004, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کو پلیاں بنانی تو نہیں آتیں‘

ٹوٹے پل کوئی پوچھنے والا بھی نہیں
ٹوٹے پل کوئی پوچھنے والا بھی نہیں
’پرانے زمانے کے ٹھیکیدار کچھ ایماندار ہوتے تھے،آج کل تو لوٹ مچی ہوئی ہے، ٹھیکیداروں کو چھوڑیں اب تو فوجی ادارے بھی گڑ بڑ کر رہے ہیں، سڑک بنے تین سال بھی نہیں ہوئے روڈ پر نالیاں بن گئی ہیں، پلیاں ٹوٹ گئیں ہیں فوجیوں کو پلیاں بنانی نہیں آتیں، اور کوئی ان سے کچھ نہیں پوچھتا‘۔

یہ باتیں اگر آپ صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد سے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی تک سفر کریں تو آپ کو سننے کو مل سکتی ہیں۔

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اسلام آباد سے سڑک کے ذریعے مسلسل بارہ گھنٹوں سے بھی زیادہ سفر کرنے کے بعد تھکن سے ہلکی نیند آرہی تھی تو گاڑی میں ساتھ بیٹھے لوگ مندرجہ بالہ باتیں کر رہے تھے۔

News image

گرینڈ ٹرنک روڈ جسے’جی ٹی روڈ، بھی کہتے ہیں، آج کل اس کی حالت پہلے سے خاصی بہتر ہے۔ لیکن اس سڑک کے کئی سیکشن بالخصوص صادق آباد سے گھوٹکی تک ایسے ہیں جو فوج سےمنسلک ایک ادارے ’فرٹیئر ورکس آرگنائئزیشن، یعنی ایف ڈبلیو او نے بنائے ہیں۔

اوباڑو سے گھوٹکی تک سڑک پر ایف ڈبلیو او کے تعمیر کردہ نو سے زائد پلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔تقریبا تین سال قبل ٹریفک کے لیے کھولے جانے والے’ جی ٹی روڈ، کی نو تعمیر شدہ دو رویہ سڑک پر سفر کے دوران ہمسفروں کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ کس قدر ناخوش ہیں۔

گھوٹکی کے رہائشی عبدارزاق نامی وکیل کہہ رہے تھے کہ فوج سے کوئی پوچھنے والا نہیں اگر سویلین ٹھیکدار ہوتا تو بلیک لسٹ ہوجاتا اور کبھی اسے سرکاری ٹھیکہ نہ ملتا لیکن ایف ڈبلیو او سے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ جب انہوں نے کہا کہ ملک میں فوج کی حکومت ہے ان سے کون پوچھ سکتا ہے تو میں نے کہا کہ ملک میں منتخب جمہوری حکومت ہے آپ کیسے کہتے ہیں؟

وکیل نے کہا کہ یہ سب دکھاوا ہے اصل حاکم تو صدر جنرل پرویز مشرف ہیں، ان کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

انشورنس کمپنی کے ایک ملازم علی شیر کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو پلیاں بنانی نہیں آتیں۔ ان کے بقول جو بھی ایف ڈبلیو او والوں نے پلیاں بنائی ہیں بیشتر ٹوٹ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے بارے میں عام تاثر ہے کہ فوج ہر کام اچھا کرتی ہے لیکن انہیں پلیاں بنانی تو نہیں آتیں۔

پرائمری استاد محمد عثمان کا کہنا تھا کہ پچاس برس پرانی سڑک کی پلیاں آج تک خراب نہیں ہوئیں لیکن تین برس پہلے بننے والی پلیاں ٹوٹ گئی ہیں جس سے لگتا ہے کہ ناقص اشیاء استعمال کی گئی ہیں۔

سڑک پر نالیان بن جانے کا سبب ایف ڈبلیو او والے ٹرکوں اور ٹریلرز پر مقرر کردہ مقدار سے زیادہ وزن اٹھانا بتاتے ہیں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہی ٹرک کراچی سے لاہور اور دیگر شہروں تک جاتے ہیں وزن بھی اتنا ہی ہوتا ہے لیکن سڑک اور پلیاں خراب صرف گھوٹکی اور صادق آباد سیکشن کی کیوں ہوئی ہیں؟

مقامی لوگوں کے مطابق پلیاں ٹوٹنے سے کئی حادثات بھی ہوئے ہیں اور کئی بے گناہ انسان ہلاک ہوئے۔ان کے مطابق پلیاں ٹوٹنے کے بعد ابتدا میں مٹی کی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں جس سے تیز رفتار گاڑیاں اچانک رات کو مٹی کے ڈھیروں سے ٹکرا جاتی تھیں لیکن ابھی ’متبادل راستہ‘ کے بورڈ لگا ئے گئے ہیں۔

عام طور پر نئی بنائی جانے والی پلیوں کو پچاس برس تک پائیدار سمجھا جاتا ہے لیکن ’ایف ڈبلیو او، کی پلیاں پانچ برس بھی نہیں چلیں۔

ایف ڈبلیو او کی تعمیر کردہ تباہ حال نو پلیاں دوبارہ بنانے کے لیے ایک نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال جنوری تک کام مکمل کریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد