BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 September, 2004, 17:03 GMT 22:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ، بلوچستان میں چاول کا بحران

چاول
پاکستان سے چاول برآمد کرنےکا ٹینڈر منسوخ ہونے کے بعد ایکسپورٹرز نے چاول کی خریداری بند کردی ہے جس کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں چاول کا بحران پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

چاول کی خریداری رکنے کے خلاف سندھ اور بلوچستان میں رائس ملز گزشتہ کئی روز سےاحتجاج کر رہی ہیں۔رائس ملوں کا کا مطالبہ ہے کہ حکومت خود مل مالکان سے چاول خرید کرے-

جیکب آباد اور لاڑکانہ کے اضلاع میں جہاں چاول کی فصل زیادہ ہوتی ہے اور رائس ملیں بھی زیادہ ہیں ڈھول بجا کر تین روز تک بطوراحتجاج کارخانے بند رکھنے اور چاولوں کا بیوپار بند رکھنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا- جس کے بعد سندھ اور بلوچستان میں ساڑھے سات سو رائس ملیں بند پڑی ہیں-

ملرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ ٹن چاول موجود ہیں جس کی مالیت دو ارب روپے بنتی ہے- اتنا بڑا اسٹاک ہوجانے کے بعد وہ کاشتکاروں سے مزید چاول خرید نہیں کرسکتے- اِدھر کارخانوں کی ہڑتال کی وجہ سے پندرہ ہزار مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں-

گزشتہ روز سندھ بلوچستان رائس ملز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر گدا حسین مہیسر کی قیادت میں کراچی میں چاول برآمد کرنے والے بیوپاریوں سے مذاکرات ہوئے- اجلاس میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیرمین انور میاں اور سابق چیئرمین رحیم جانو نے شرکت کی- اس ملاقات میں انور میاں نے بتایا کہ جب تک حکومت چاول کی اس قسم کو سگداسی کو باسمتی کے طور پر منظور نہیں کرتی تب تک وہ اس کی خریداری نہیں کریں گے- انہوں نے مل مالکان کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اس قسم کا نام پی کے 198 رکھیں-

ملرز کے نمائندے گداحسین مہیسر نے ایکسپورٹرز کو بتایا کہ چاولوں کی قسم سگداسی کے طور پر صدیوں سے مشہور ہے اور اس کی ایک الگ پہچان ہے- لاڑکانہ میں قائم چاولوں کے تحقیقاتی ادارے نے بھی ایسا سرٹیفکٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ قسم نہ تو پی کے 198 ہے اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی نام رکھا جا سکتا ہے- مہیسر نے واضح کیا کہ سگداسی چاولوں کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا-

اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت عارف جتوئی بھی موجود تھے- انہوں نے کہا کہ حکومت سگداسی چاولوں کی برآمد کا بندوبست کرےگی-

چاول کے کاشتکاروں احمد بروہی اور مخیار بھٹی کا کہنا ہے کہ رواں سال پانی کی رسد دیر سے ہونے کے باعث سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں سگداسی قسم کاشت کی گئی ہے- یہ فصل آئندہ چند روز میں اترنے والی ہے- لیکن ملرز اور بیوپاریوں کے پاس گزشتہ برس کی فصل موجود ہے- جس کی وجہ سے نئی فصل کی خریداری نہیں کی جارہی ہے-

ملرز کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز سگداسی چاولوں کی خریداری نہیں کر رہے ہیں اور نئی فصل کے قریب آنے کی وجہ سے کراچی کی منڈی میں سگداسی چاولوں کی قیمت میں فی بوری پر پانچ سو روپے تک کمی آئی ہے-

رایس ملرز ایسوسی ایشن شہدادکوٹ کے صدر قمرالدین شیخ کا کہنا ہے کہ بڑی مقدار میں چاول ملز میں اسٹاک ہو گیا ہے- دوسری جانب ایکسپورٹرز نےچاول خرید کرنے سے انکار کردیا ہے- اس پر طرہ یہ کہ ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر سختی کی گئی ہے- جس کے بعد چاول ان دونوں ممالک کو بھی نہیں بھیجے جا سکتے- لہذا ان کے پاس سوائے کارخانے بند کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہے-

بلوچستان کے شہر اوستا محمد کے بیوپاری شنو مل کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز کی جانب سے سگداسی چاولوں کی خریداری بند ہونے کے بعد وہ نئی فصل کی خریداری نہیں کر سکتے- یوں چاول کے تمام کاشتکار متاثر ہو رہے ہیں-

دادو کے منیر احمد شیخ نے کہنا تھا کہ ملکی زراعت کو بچانے کے لئےحکومت کو بیچ میں آنا چاہیے اور حکومتی ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو چاول کی خریداری کرکے اس کی ایکسپورٹ کا بندوبست کرنا چاہئیے-

کندھ کوٹ کے ملر نانک رام نے کہا کہ سگداسی چاولوں کے اسٹاک میں پیسے پھنس جانے کے بعد مل مالکان اور بیوپاری کوئی خریداری نہیں کرسکتے- انہوں نے کہا کہ پنجاب سے پہنچنے والا مال بھی واپس لوٹ رہا ہے-

اگرچہ سگداسی قسم کی فصل اترنے ابھی چند روز باقی ہیں تاہم چاول کی دوسری اجناس کی نئی فصل مارکیٹ میں آ گئی ہے- اس کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے رائس ملوں کے مالکان اور کاشتکار پریشان ہیں - ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان جو کہ زرعی اجناس کی قیمتوں میں بحران پیدا ہونے پر مداخلت کرتی ہے اور خریداری کرتی ہے وہ ابھی تک میدان میں نہیں آئی ہے-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد