سندھ: موٹر سائیکل پر کار کے مزے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ کے جیکب آباد اور گھوٹکی سمیت مختلف اضلاع کے دیہات میں موٹر سائیکل میں ٹیپ لگاکر گانے سننے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان اضلاع کے رہائشی کہتے ہیں کہ وہ موٹر سائیل پر کار کا مزہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے کچھ خصوصی رپورٹوں کی تیاری کے سلسلے میں اندرون سندھ جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے وہاں کئی لوگوں کو موٹر بائیک میں لگے ہوئے ٹیپ پر گانے سنتے دیکھا۔ برطانوی دور حکومت کے وائسرائے سرجان جیکب کے نام سے منسوب ضلع جیکب آباد سخت گرمی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ ہم جب جیکب آباد کی سب سے بڑی تحصیل اور اکثریتی ہندو آبادی والے شہر کندھ کوٹ سے قبائلی تنازعہ کے متعلق ایک انٹرویو کرکے واپس آرہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ راستے میں نہر کے کنارے کچی سڑک پر تیز رفتاری سے ایک نوجوان موٹر بائیک پر تیز آواز میں ٹیپ پر سندھی فنکار ماسٹر منظور کا گانا سن رہا تھا۔ فضا گانے ’موں کھاں وچھڑی وئیں پریں منھجو ویڑھو ویران تھی ویو‘ کے بولوں سے گونج رہی تھی جس کا اردو ترجمہ ’مجھ سے بچھڑگئے پیارے میرا تو محلہ ہی ویران ہوگیا‘ ہے۔ اس نوجوان سے بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ پندرہ سالہ محمد یوسف پڑھتے نہیں بلکہ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ موٹر بائیک میں ٹیپ لگا کر گانا سننے کے متعلق انہوں نے کہا کہ انہیں شوق ہے جو وہ پورا کر رہے ہیں۔ جیکب آباد ہو یا گھوٹکی،شکارپور ہو یا خیرپور، آپ اگر دیہاتی علاقوں میں جائیں گے تو کئی لوگ آپ کو موٹربائیک پر اپنی پسند کے گانے سنتے نظر آئیں گے۔موٹر بائیک میں ٹیپ سننے کی وجہ بیشتر لوگ یہ بتاتے ہیں کہ وہ کار یا بڑی گاڑی نہیں خرید کرسکتے اس لیے وہ کار کا مزہ موٹر سائیکل سے پورا کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل کی پیٹرول کے ٹنکی پر ٹیپ رکھ کر اسے الاسٹک سے باندھتے ہیں جبکہ ہیڈ لائٹ کے ساتھ اشاروں کے نیچے سپیکر لگاتے ہیں۔ کئی شوقین حضرات نے مٹی سے بچاؤ کے لیے سپیکروں کے اوپر کپڑا بھی باندھ رکھا ہوتا ہے۔ جس طرح موٹر بائیک پر ٹیپ لگانے کا رجحان اندرون سندھ میں بڑھ رہا ہے اگر یہ جاری رہا تو ہو سکتا ہے آئندہ ایک دو برسوں میں موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیاں نئے موٹر سائیکلوں کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر فٹ کرنا شروع کر دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||