BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 August, 2004, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالیجی جھیل کے مگر مچھ بپھر گئے

ہالیجی جھیل کے مگر مچھ
ہالیجی جھیل کے مگر مچھ جو اب انسانوں کو شکار کر رہے ہیں۔
پاکستان کے ضلع ٹھٹہ میں واقع ہالیجی جھیل کے مگر مچھوں نے درجن سے زائد افراد کو زخمی کر دیا ہے ۔

گذشتہ چند ہفتوں میں ایک درجن سے زائد افراد مگر مچھوں کے حملوں میں شدید زخمی ہو چکے ہیں جب کہ ایک گیارہ سالہ بچی ہلاک ہو چکی ہے-

ہالیجی جھیل پر لوگ پہلے تفریح کے لیے آتے تھے لیکن مگر مچھوں کے حملوں کے بعد لوگ آنا کم ہو گئے ہیں۔

کراچی سے ستر کلو میٹر دور ضلع ٹھٹہ میں تین دیگر آبگاہوں کینجھر - ہڈیری اور کلری کے قریب واقع ہالیجی جھیل جنگلی حیوانیات کی محفوظ بناہ گاہ سمجھی جاتی ہے-

اس جھیل کو عالمی تحفظ حیوانات کا ادارہ ورلڈ وائلڈ لائف نوے کے عشرے میں اسے رامسر کے عالمی معاہدے کے تحت محفوظ آبگاہ کا درجہ دے چکا ہے-

ماہرین کے مطابق جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مگر مچھوں کی خوراک کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے
جھیل کے اندر سے خورارک حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد مگرمچھ خوراک کی تلاش میں جھیل سے باہر نکل آئے ہیں۔ اور انسانوں پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں-

گذشتہ چند ماہ میں گیارہ افراد پر بھوکے مگرمچھوں نےحملے کیے-

ان حملوں کا شکار ہونے والوں میں گیارہ سالہ عائشہ ہلاک ہوگئی جبکہ مسمات بھاگل ، ابراہیم میربحر، کلو میربحر، میمن میربحر، جڑیو میر بحر، شاکر اور دیگر افراد اس خون خوار جانور کے حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں-

انسانوں پر حملوں کے علاوہ بھوکے مگر مچھوں ایک درجن سے زائد بکریوں ، بھیڑوں اور دیگر مویشیوں کو اپنی خوراک بنا چکے ہیں- ان واقعات کے بعد آس پاس کے دیہاتوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے-

وائلڈ لائف کے بعض مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی میں کمی - بڑھتی ہوئی آلودگی اور دیکھ بھال کے فقدان کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ آبی پرندوں اور حیوانات کی آماجگاہ تباہ ہو رہی ہے-

محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف حکومت سندھ کے سیکریٹری محمود احمد خان کا کہنا ہے کہ 6.68 مربع میل اس جھیل میں پانی سطح کم از کم سترہ فٹ ہونی چاہئیے لیکن اس وقت یہ سطح پانچ فٹ کم ہے-

حکومت سندھ کے اہلکار نے کہا گذشتہ دو سال کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر اس آبی ذخیرے میں پانی نہیں چھوڑا گیا- جس کی وجہ سے مختلف قسم کے آبی اور مہمان پرندوں کی آمد اور افزائش پر اثر پڑا ہے-

ہالیجی جھیل مچھلی مختلف پرندوں اور آبی جانوروں کے علاوہ کئی اقسام کےگھاس پودوں اور جھاڑیوں کی بھی پیداوار کا ذریعہ ہے جس پر بعض ہجرت کرنے والے قبیلے موسم کی مطابقت سے تھوڑی بہت کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

اس جھیل کی تباہی کی ایک وجہ کاروباری بنیادوں پر ماہی گیری بھی بتائی جاتی ہے جس کی حکومت سندھ نے سیاسی بنیادوں پر چند سال قبل اجازت دی تھی-

اگرچہ حکومت سندھ نے ہالیجی کو وائلڈ لائف کی سنچری - محفوظ پناہ گاہ قراردیا ہے اور ورلڈ وائلڈ لائف نے بھی اس کے تحفظ کے لئے رامسر سائٹ قرار دیا ہے لیکن اس کے حیوانات اور نباتات خطرے میں پڑگئے ہیں-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد