رحمان کا وائٹ ہاوس زمین بوس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے انتہائی مطلوب ملزم رحمان ڈکیت کے فرار ہونے کے بعد حب میں اس کے ٹھکانے وائٹ ہاوس کو دھماکے سے زمین بوس کردیا گیا ہے۔ رینجرز کے ونگ کمانڈر جمشید کا کہنا ہے کہ رحمان ڈکیت کے اڈے وائٹ ہاوس سے رینجرز نے بھاری تعداد میں اسلحہ اورگولا بارود برآمد کیا ہے۔ جس میں انیس راکٹ، تینتیس گولے، ساڑہ سات ہزار گولیاں، انیس پسٹل اور چھ عدد کلاشنکوف شامل ہیں۔ رینجرز کے افسر تعلقاتِ عامہ عابد شاھ کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا قلعہ ختم کرنا ضروری تھا۔ اس کارروائی سے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے انہیں یرغمال بنایا ہوا تھا۔ عابد شاھ نے اس الزام کی تردید کی کہ آپریشن کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس پائمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس کے اردگرد بھی دہشت گردوں کی ہی گھر تھے۔ جب کہ ڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاھ کا کہنا ہے کہ اندیشہ ہے کہ رحمان ڈکیت آگے بلوچستان کی حدود میں فرار ہوگیا ہوگا۔ دوسری جانب مقابلے میں زحمی ہونے والے ڈی ایس پی چودھری اسلم کی مدعیت میں حب تھانے پر رحمان ڈکیت اور ان کے آٹھ ساتھیوں پر قتل، پولیس پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جب کہ صوبائی وزیر روف صدیقی کی جانب سے منگل کے روز پریس کانفرنس میں دعوی کیا گیا تھا کہ پولیس اور ڈاکوں کے مقابلے میں ایک ایس ایچ او شھید ہوگئے ہیں۔ جب کہ دو راہگیر بھی مارے گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے ڈاکوں کے تین ساتھیوں کو مارڈالا ہے۔ مگر پولیس کی ایف آر میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیاگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||