سرائیکی صوبہ بننا چاہیے: الطاف حسین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سرائیکی زبان بولےجانے والے علاقوں پر مشتمل ایک نۓ صوبے کے قیام کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ سرائیکی صوبے کے حصول کی جدوجہد کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں گے ۔ ملتان سے پینتس کلومیٹر دور مظفرگڑھ میں سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، انجینئرز، وُکلا اور دانشوروں کے ایک اجتماع سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بڑے صوبے کو تقسیم کر دیا جائے تو اس سے انتظامی نظم و نسق چلانے میں آسانی واقع ہو سکتی ہے۔ مظفر گڑھ میں الطاف حُسین کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دو وفاقی وزیر شمیم صدیقی اور سید صفوان اللہ بھی موجود تھے ۔ تقریب کا اہتمام ایم کیو ایم کی پنجاب میں صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی نے کیا تھا ۔ الطاف حُسین کا کہنا تھا سرائیکی عوام کو اُن کے جائز حقوق سے جان بوجھ کر محروم رکھا جارہا ہے ۔ ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ سرائیکی لوگ اگر سمجھتے ہیں کہ الگ صوبے ہی کے ذریعے اُنہیں حقوق مِل سکتے ہیں تو اُن کی بات ماننے میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ اُنہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبے کے لیۓ آواز اُٹھانے پر پنجاب کی قیادت اُنہیں بُرا بھلا کہے گی لیکن وہ اِس کی پرواہ نہیں کرتے ۔ الطاف حُسین نے پاکستان میں حکمراں طبقے کو اسٹیبلشمنٹ کہہ کر پکارتے ہوئے کہا کے وہ چھوٹے صوبوں اور محکوم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والے سیاسی رہنماؤں کو غدار کہنا چھوڑ دے ورنہ وفاق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ الطاف حُسین کا کہنا تھا کہ پنجابی لیڈر ہندوستان جاکر گُردواروں پر حاضری دیں یا جاتی عُمرا میں گُردوارہ بنانے کے لیے تقسیم کے وقت چھوڑی ہوئی زمین دان کردیں اُنہیں کوئی بھی غدّار نہیں کہتا لیکن اگر چھوٹے صوبوں سے کوئی وہاں جاکر پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ بھی لڑے تو غدّار کہلاتا ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الہی اپنے حالیہ دورہ ہندوستان کے دوران سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل بھی گۓ تھے جبکہ اس سے قبل سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے والد میاں شریف اپنے بیٹے کے عہد میں مشرقی پنجاب میں واقع اپنے گاؤں جاتی عُمرا گۓ تو وہاں پر اپنی آبائی زمین گُردوارہ بنانے کے لیے وقف کر آئے تھے ۔ الطاف حُسین کا کہنا تھا کہ وہ گُردواروں پر جانے یا اُن کے لیۓ زمیں وقف کرنے کو بُرا نہیں سمجھتے لیکن وہ ہندوستان کے ساتھ میل ملاپ پر پنجاب کی قیادت کے دوہرے میعار کے خلاف ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اُتنے ہی محّبِ وطن ہیں جتنی بے نظیر بھٹو، نواز شریف یا کوئی جرنیل ہو سکتا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||