BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الطاف حسین کا خطاب اور نئی جہتیں

الطاف حسین
’گالی کا جواب گالی سے نہ دیں۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم قائد الطاف حسین کا جلسہِ عام سے خطاب پاکستان خصوصاً کراچی اور سندھ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس میں انہوں نے ایک مثبت، مفاہمانہ اور منفرد رویہ اختیار کیا ہے۔

الطاف حسین کے خطاب کی بعض باتوں سے کچھ لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ بعض معاملات میں ان کا اپنا نقطۂ نظر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دوسرے لوگ مختلف رائے رکھ سکتے ہیں یا انہیں قائل کرسکتے ہیں۔

ان اختلافی معاملات کی تاریخی اہمیت تو شاید ہوسکتی ہو، ان پر بات بھی علمی حلقوں میں ہوتی رہتی ہو مگر اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔ الطاف حسین کہتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم غلط تھی۔ یہ ان کی رائے ہے۔ مگر انہیں بھی پتہ ہے کہ اب 57 سال بعد اُسے حتم نہیں کیا جاسکتا۔

سیاسی اصول پرستی
 اب جب کہ الطاف حسین نے اتنا آگے بڑھ کر مفاہمانہ رویہ اختیار کرلیا ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ان اختلافی معاملات سے قطع نظر ان کے خطاب میں کئی مثبت پہلو ہیں۔ اور یہ اقدامات ایک ایسی جماعت کی طرف سے کئے گئے ہیں جس کے مخالفین اُسےایک تشدد پسند پارٹی قرار دیتے رہے ہیں۔ اور جس کے ساتھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی کئی وجوہ رہی ہوں گی۔ الزامات دونوں طرف سے لگائے جاتے رہے۔ ان کی تردید بھی کی جاتی رہی۔

اب الطاف حسین نے ماضی کی ان تمام باتوں کو فراموش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔یہ مشورہ پہلے بھی مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں سے آتا رہا ہوگا مگر اس بار مشورہ دینے سے پہلے الطاف حسین نے بھرے مجمع کے سامنے اپنی اور متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے معذرت کی۔ انہوں نے کسی شرط کے بغیرکہا ’اگر ہمارے رویے سے کسی کو تکلیف ہوئی ہو تو ہمیں معاف کردیں۔‘

اور بات یہیں تک نہیں رہی۔ ایک نہیں کئی قدم آگے بڑھی۔ انہوں نے ایک اعلان کیا اور اعلان کرنے سےپہلے اپنے لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی بات مانیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے الزامات کے جواب میں جوابی الزامات نہیں لگائیں گے، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیں گے۔ الطاف حسین نے اپنے لوگوں سے کہا ’میں آپ کو پابند کرتا ہوں کہ آپ غلط زبان کا جواب اسی زبان میں نہ دیں۔‘

متحدہ قومی موومنٹ میں الطاف حسین کا فرمان حرفِ آخر ہوتا ہے اس لئے ان کی طرف سے ان کے لوگوں پر لگائی گئی پابندی یقیناً موثر ہوگی۔
ساتھ ہی انہوں نے دوسری سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے کہا کہ سیاست کے کچھ اصول بنالیجئے۔ اختلاف کیجئے مگر ایک دوسرے کو کافر اور غدار قرارمت دیجئے۔ اور اس کی وجہ، الطاف حسین نے بار بار دہرائی، کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان کو کئی مشکلات درپیش ہیں جن سے قوم متحد ہوکر ہی نمٹ سکتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے مفاہمت کی یہ پیش کش اور اپنے لوگوں کو پابند کرنے کی یہ پیش رفت بہت سے حلقوں کے لئے حیران کن ہوگی کہ ان حلقوں میں ایم کیو ایم کے بارے میں کئی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب جب کہ الطاف حسین نے اتنا آگے بڑھ کر مفاہمانہ رویہ اختیار کرلیا ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ملک میں اتحاد اورمفاہمت کی ضرورت ہر وقت رہی ہے، اب شاید زیادہ ہے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایسی فضا تیار کرنی چاہئے جس میں اختلاف کی گنجائش ہو، مختلف سیاسی جماعتیں، مختلف معاملات پر اپنی رائے رکھیں، انہیں آگےبڑھائیں۔ مگر جمہوری انداز میں ، اس انداز میں کہ غدار اور کافر قرار دینے کی روایت ختم ہو۔ ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کریں مگر کسی ضابطہ میں رہ کر۔

اور خود الطاف حسین کو بھی اپنی جماعت اور اپنے رویہ کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے، جس کا انہیں بہت اندازہ ہے اور اس پر انہوں نے زور بھی دیا ہے، تو انہیں بھی چاہئے کہ غیر ضروری اختلافی معاملات کو کسی اور وقت کے لئے اٹھارکھیں۔ علمی مباحث پرجلسۂ عام میں نہیں، ڈرائینگ روم میں، کسی سیمینار میں گفتگو کرلیں۔ جب آپ نے مفاہمت کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کرہی لیا ہے تو مفاہمت کو ہی آگے بڑھائیں، باقی معاملات پر پھر کبھی بحث مباحثہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال توجہ وہاں رکھیں جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد