الطاف حسین کا خطاب اور نئی جہتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم قائد الطاف حسین کا جلسہِ عام سے خطاب پاکستان خصوصاً کراچی اور سندھ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس میں انہوں نے ایک مثبت، مفاہمانہ اور منفرد رویہ اختیار کیا ہے۔ الطاف حسین کے خطاب کی بعض باتوں سے کچھ لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ بعض معاملات میں ان کا اپنا نقطۂ نظر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دوسرے لوگ مختلف رائے رکھ سکتے ہیں یا انہیں قائل کرسکتے ہیں۔ ان اختلافی معاملات کی تاریخی اہمیت تو شاید ہوسکتی ہو، ان پر بات بھی علمی حلقوں میں ہوتی رہتی ہو مگر اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔ الطاف حسین کہتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم غلط تھی۔ یہ ان کی رائے ہے۔ مگر انہیں بھی پتہ ہے کہ اب 57 سال بعد اُسے حتم نہیں کیا جاسکتا۔
ان اختلافی معاملات سے قطع نظر ان کے خطاب میں کئی مثبت پہلو ہیں۔ اور یہ اقدامات ایک ایسی جماعت کی طرف سے کئے گئے ہیں جس کے مخالفین اُسےایک تشدد پسند پارٹی قرار دیتے رہے ہیں۔ اور جس کے ساتھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی کئی وجوہ رہی ہوں گی۔ الزامات دونوں طرف سے لگائے جاتے رہے۔ ان کی تردید بھی کی جاتی رہی۔ اب الطاف حسین نے ماضی کی ان تمام باتوں کو فراموش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اور بات یہیں تک نہیں رہی۔ ایک نہیں کئی قدم آگے بڑھی۔ انہوں نے ایک اعلان کیا اور اعلان کرنے سےپہلے اپنے لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی بات مانیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے الزامات کے جواب میں جوابی الزامات نہیں لگائیں گے، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیں گے۔ الطاف حسین نے اپنے لوگوں سے کہا ’میں آپ کو پابند کرتا ہوں کہ آپ غلط زبان کا جواب اسی زبان میں نہ دیں۔‘ متحدہ قومی موومنٹ میں الطاف حسین کا فرمان حرفِ آخر ہوتا ہے اس لئے ان کی طرف سے ان کے لوگوں پر لگائی گئی پابندی یقیناً موثر ہوگی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے مفاہمت کی یہ پیش کش اور اپنے لوگوں کو پابند کرنے کی یہ پیش رفت بہت سے حلقوں کے لئے حیران کن ہوگی کہ ان حلقوں میں ایم کیو ایم کے بارے میں کئی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب جب کہ الطاف حسین نے اتنا آگے بڑھ کر مفاہمانہ رویہ اختیار کرلیا ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ملک میں اتحاد اورمفاہمت کی ضرورت ہر وقت رہی ہے، اب شاید زیادہ ہے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایسی فضا تیار کرنی چاہئے جس میں اختلاف کی گنجائش ہو، مختلف سیاسی جماعتیں، مختلف معاملات پر اپنی رائے رکھیں، انہیں آگےبڑھائیں۔ مگر جمہوری انداز میں ، اس انداز میں کہ غدار اور کافر قرار دینے کی روایت ختم ہو۔ ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کریں مگر کسی ضابطہ میں رہ کر۔ اور خود الطاف حسین کو بھی اپنی جماعت اور اپنے رویہ کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے، جس کا انہیں بہت اندازہ ہے اور اس پر انہوں نے زور بھی دیا ہے، تو انہیں بھی چاہئے کہ غیر ضروری اختلافی معاملات کو کسی اور وقت کے لئے اٹھارکھیں۔ علمی مباحث پرجلسۂ عام میں نہیں، ڈرائینگ روم میں، کسی سیمینار میں گفتگو کرلیں۔ جب آپ نے مفاہمت کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کرہی لیا ہے تو مفاہمت کو ہی آگے بڑھائیں، باقی معاملات پر پھر کبھی بحث مباحثہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال توجہ وہاں رکھیں جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||