BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 December, 2004, 18:35 GMT 23:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان بچانے کی آخری کوشش‘

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مشترکہ گول میز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے ۔ اتوار کو نشتر پارک میں ایک بڑے جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نےپاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان بچانے کی آخری کوشش میں مصروف ہیں۔

الطاف حسین نے اپنے ایک گھنٹے کے خطاب میں کہا کہ اس خطے میں پاکستان کو نازک صورتحال کا سامنا ہے اب امریکہ اور مغربی طاقتوں کا جھکاؤ پاکستان کے بجائے بھارت کی طرف ہورہا ہے ان حالات میں ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے کہتے ہیں کہ ہر جماعت ضابطہ اخلاق اختیار کرے اور اگرکوئی جماعت ایم کیوایم سے غیرمہذب زبان میں بات کرے گی تو اس کا جواب اسی غیرمہذب زبان میں نہیں دیا جائے گا۔

الطاف حسین نے بھارت کے اپنے حالیہ دورے کے موقع پر دو قومی نظریئے پر اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے اس پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ تو سب سے پہلے قائداعظم نے خود توڑا تھا جب دہلی سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ بھارت کے وفادار رہیں ۔

الطاف حسین نے کہا کہ یہ دو قومی نظریہ اس وقت توڑا گیا جب 1953 میں پاکستان کی سرحدیں بھارتی مسلمانوں کے لئے بند کردی گئیں اس کے بعد دو قومی نظریہ اس وقت توڑا گیا جب 1970 کے عام انتخابات میں اکثریتی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت نہ الطاف حسین اور نہ ہی ایم کیوایم موجود تھی۔

الطاف حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مشترکہ گول میز کانفرنس کا انعقاد بہت ضرورت ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ گریٹر پنجاب نہیں بننے دیا جائے گا اور وہ پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارتی پنجاب کے لوگوں کی واہگہ کے راستے آمدورفت کے خلاف نہیں ہیں لیکن وقت کا تقاضہ ہے کہ کھوکھراپار کا راستہ فورا کھولا جائے تاکہ سندھ کے لوگ بھی آزادانہ آمدورفت کرسکیں۔انہوں نے ہر صوبے کو قومی خزانے سے اس کا جائز حق دینے کا مطالبہ کیا۔

جلسے سے سندھ کے وزیراعلی ارباب غلام رحیم اور ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

جلسے میں کراچی اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے ہزاروں افراد بھرپور طور پر شریک تھے جن میں خواتین اور عمررسیدہ لوگوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد