متحدہ کے تین ارکان مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے تین ارکان قومی اسمبلی نے پیر کے روز سپیکر چودھری امیر حسین سے انکے چیمبر میں ملاقات کرکے ایوان کی رکنیت سے استعفٰے پیش کردیئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ تین اراکین اسبملی عزیز اللہ بروہی، سرکار الدین اور سلطان احمد خان نے سپیکر سے ملاقات میں پارٹی فیصلے کے تحت استعفٰے پیش کیے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نےبی بی سی کو بتایا کہ آئین کی شق 64 (1) کے تحت جب کوئی رکن اسمبلی استعفٰی پیش کرتا ہے تو وہ نشست خالی تصور ہوتی ہے۔ عزیزاللہ بروہی، جنہوں نے اڑھائی سال قبل متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی، کا تعلق جیکب آباد سندہ سے ہے اور وہ کراچی کے حلقہ 246 (عزیزآباد)سے منتخب ہوئے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عزیز اللہ بروہی نے کہا کہ اب وہ سامان سمیٹ رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی وہ پارٹی میں رہیں گے تو انہوں نے کہا کہ اب سوچنا پڑے گا پارٹی میں رہنے یا علیحدہ ہونے کا فیصلہ چند روز میں کریں گے۔ اتوار 14 مارچ کو کراچی میں متحدہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات احمد علی، سندہ کے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن عبدالرؤف صدیقی اور وزیراعلٰی سندہ کے مشیر نعمان سہگل کو عہدوں سے استعفٰے دلوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ قومی اسبملی کی رکنیت سے جن ارکان کو محروم کیا گیا ان کی کارکردگی پارٹی کی نظر میں اطمینان بخش نہیں تھی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ انکی حکومت سے ناراضگی نہیں البتہ دیگر مصروفیات کے باعث قومی اسبملی کے اجلاس میں انکی جماعت کا کوئی بھی رکن شریک نہیں ہورہا ۔ ایک سوال پر انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کی توسیع کے حوالے سے وہ دو وزارتیں لینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حکومت نے انہیں ایک وزارت کی پیشکش کی ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے بل کے متن پر اعتراضات کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ اعتراضات تو ہیں لیکن اس معاملےپررابطہ کمیٹی مشاورت کررہی ہے اور اعتراضات کی تفصیلات مرتب کررہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||