 |  الطاف حسین بھارت کے پہلے دورے پر ہیں |
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین بھارت کے دورے پر ہیں جہاں وہ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے زیر اہتمام ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بحال ہوئے ہیں اور ارکان پارلیمان، تاجر اور طلباء کے وفود بھارت کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کے زیراہتمام کانفرنس میں شرکت کے لئے عمران خان بھی پہنچے ہیں۔ لیکن الطاف حسین کا یہ بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ ماضی میں بھی کئی بار وہ جانا چاہتے تھے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے نہ جاسکے۔ الطاف حسین گزشتہ بارہ سال سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ بھارت کے ان کے دورے کو پاکستان میں سیاسی نظر سے دیکھا جائے گا۔ آپ کی رائے میں کیا الطاف حسین کو بھارت جانا چاہئے تھا؟ ان کے دورے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
فہد محمد، کراچی: الطاف حسین ایک رہنما ہیں اور جو لوگ ان کے خلاف لکھ رہے ہیں، وہ ان سے حسد کرتے ہیں۔ الطاف حسین میں وہ جادو ہے کہ لوگ ان کے ایک اشارے پر اپنا لہو بہا دیتے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے ان کی قوم کو فائدہ ہے اور اسی چیز سے لوگوں کو تکلیف ہے۔ اگر آپ نے میری رائے شائع نہ کی تو پھر یہ ثابت ہوگا کہ یہ ایک متعصب فورم ہے اور صرف الطاف حسین کے مخالفوں کی رائے شائع کرتا ہے۔سیف خان، برطانیہ: میرا خیال ہے کہ انہیں واپس پاکستان جاکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔ کارمل ندیم، کراچی: الطاف حسین دونوں قوموں کو قریب لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس وقت ہمیں ایسے ہی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو بھارت کے ساتھ امن منصوبہ شروع کرسکیں اور وہ اس پر کام کرسکتے ہیں۔ مجیب راجہ، سعودی عرب: الطاف حسین نے نظریہِ پاکستان کی نفی کرکے اپنی رائے بہت کھلے طریقے سے عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔ لگتا ہے برطانوی شہریت کے بعد اب وہ بھارتی شہریت کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ان جیسا رہنما انڈیا کی زبان میں بات کرے گا۔ افسوس کہ ستاون برس بعد بھی لوگ مہاجر کہلاتے ہیں۔ وصیت خان، ٹوکیو: چھوڑیئے، الطاف حسین ہیں، صدام حسین تھوڑی ہیں۔
 | شور کیوں؟  فیصلہ عوام کے ہاتھ ہوتا ہے۔ بےنظیر، مولانا فضل الرحمان وغیرہ سب انڈیا کے دورے کر چکے ہیں، اس وقت یہ شور کیوں نہیں ہوا؟  محمد عامر خان، کراچی |
محمد عامر خان، کراچی: اگر الطاف حسین انڈیا گئے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آج کل میڈیا بہت طاقت ور ہے، وہ جو کچھ بھی وہاں کہیں گے وہ پاکستانی عوام تک پہنچ ہی جائے گا اور فیصلہ عوام کے ہاتھ ہوتا ہے۔ بےنظیر، مولانا فضل الرحمان وغیرہ سب انڈیا کے دورے کر چکے ہیں، اس وقت یہ شور کیوں نہیں ہوا؟ اب ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو ہمیں ایک ملکی طاقت کے طور پر ماننا چاہیے۔یاسر، میرپور: چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ ثاقب احمد، کینیڈا: میرا خیال ہے کہ اپنے ہمسائے کے ساتھ قریبی اور مفید تعلقات کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔ ہمیں اس وقت انتہا پسند اور کٹر گروہوں کا اصل کردار سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ہم آگے بڑھ آئے ہیں اور جنوب ایشیا میں ایک نیا مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ طیبہ چوہدری، کینیڈا: جن کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوں، آپ ان سے کسی تبدیلی کی کیا توقع کرسکتے ہیں؟ خالد فاروقی، برطانیہ: اگر پنجاب اور پٹیالہ کے وزرائے اعلیٰ پنجاب جاسکتے ہیں، فضل الرحمان انڈیا جا سکتے ہیں تو الطاف حسین کیوں نہیں؟ وہ واحد رہنما ہے جنہوں نے کبھی مصالحت نہیں کی حتیٰ کہ فوج نے ان کے بھائی اور بھانجے کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ ہم انڈیا کے مہاجر پرامن طور پر پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ آخر صرف پنجاب سے پنجاب کا راستہ ہی کیوں کھلا ہے؟ کراچی سے بمبئی یا سندھ سے انڈیا کا راستہ کیوں نہیں کھل سکتا؟ آصف ججہ، ٹورنٹو، کینیڈا: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بی بی سی انہیں اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہے اور برطانیہ نے انہیں پناہ کیوں دے رکھی ہے؟ عامر، سویڈن: الطاف حسین مجیب الرحمان کا پارٹ ٹو ہیں، اللہ پاکستان کو بچائے۔ ایم علی، ٹورنٹو: ارے اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے، اپنے الطاف بھائی انڈیا میں بھی اپنے ہی لوگوں سے ملنے گئے ہیں۔ لگتا ہے کراچی میں ان کے اپنے بھائی لوگ کچھ کم پڑ گئے ہیں۔ شرمین بلوچ، حیدرآباد: قوم مشکل میں ہے اور مشکل کا حل ڈھونڈنے والے کبھی انڈیا میں تو کبھی لندن میں۔ علینہ طاہر، ٹورنٹو: ہوسکتا ہے کہ انڈیا کے مہاجرین زیادہ مشکل میں ہوں۔ ویسے بندہ اپنے ملک ہی میں جاتے ہوئے اچھا لگتا ہے۔ مالک اشتر، امریکہ: مہاجر آج وطن واپس پہنچ گئے۔ ثناء خان، کراچی: اتنے قریب پہنچ گئے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں آتے؟ ایک ڈرامہ ہے۔ نبیل عامر، امریکہ: جب مولانا فضل الرحمان، جن کی جماعت انڈیا کے بھرپور خلاف رہی ہے، انڈیا جاسکتے ہیں تو الطاف حسین کیوں نہیں؟ کسی ایک آدمی کے جانے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہاں اگر چھوٹا سا قدم ضرور ہوسکتا ہے دونوں ممالک میں انڈراسٹینڈِنگ کے لئے۔ فیصل قریشی، ناظم آباد، کراچی: انہوں نے انڈیا جاکر ثابت کر ہی دیا۔۔۔۔ محمد مشرف، بیلجیئم: پاکستان کے وہی رہنما ہیں جنہوں نے حقائق پر مبنی تجزیہ پیش کیا اور اس کا حل بھی بتایا ہے، پہلی دفعہ ایجنسی کا کردار بےنقاب کرنے والے لیڈر ہیں اور بعد سب ہی نے ان کی زبان استعمال کرنا شروع کردی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنا جرآتمندانہ تجزیہ نہ صرف پیش کریں گے بلکہ اس کا حل بھی بتائیں گے۔ طارق محمود، سرگودھا: کوئی فائدہ نہیں وہاں جاکر۔ وہاں جاکر بھی مہاجر کی رٹ لگانی ہے۔۔۔۔ ثاقب محمود، کینیڈا: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایسے شخص کو جس کے ہاتھ کراچی کے نوجوانوں کے خون میں رنگے ہوں، وہ کیا امن لاسکتا ہے؟ ۔۔۔۔  | قیادت کی مثال  الطاف حسین کے بھارت کے دورے سے پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو بھی بھارت کا دورہ کرنے کا حوصلہ ملے گا۔  شیریار خان، سنگاپور |
شیریار خان، سنگاپور: الطاف حسین کے بھارت کے دورے سے پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو بھی بھارت کا دورہ کرنے کا حوصلہ ملے گا۔ الطاف حسین کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک خلیج پر کرنے کا ذریعہ بنےگا۔ شاید وہ پرانے کچھ مسائل حل کرانے میں بھی کردار ادا کرسکیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی مصالحتی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جاوید اقبال، چکوال: انڈیا کئی بار ان کو دعوت دیتا رہا ہے اور دیتا رہے گا کیوں کہ انڈیا کی روایت رہی ہے کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے مخالف کو اہمیت دیتا ہے۔۔۔۔ عفاف اظہر، ٹورانٹو: جناب الطاف حسین کا کیا کہنا، یہ سب سیاست کی باتیں ہیں۔ آپ بی بی سی والے بھی۔۔۔۔ مقبول چننا، مانچسٹر: پاک آرمی چیف انڈیا جاسکتا ہے تو الطاف حسین کیوں نہیں جاسکتے؟ انڈیا ہمارا پڑوسی ہے اور ہمارے فیملی ٹرمس ہیں۔ نصیر بھٹی، ٹورانٹو: چلئے پہلے دیکھتے ہیں کہ وہ بھارت میں کیا کہتے ہیں۔ علی عمران شاہین، لاہور: الطاف حسین کی پہچان پاکستان سے ہے۔ انڈیا ہمارا پرانا دشمن ہے۔ انہیں انڈیا نہیں جانا چاہئے تھا۔ انڈیا سے آج کل کی طرح پہلے کئی بار حالات ٹھیک ہوچکے ہیں لیکن ہر دفعہ کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔  | تاریخ کی غلطیاں  الطاف حسین کا بھارت کا یہ دورہ شاید ہمارے بزرگوں کی اس غلطی کو دور کرسکے جو انہوں نے انیس سو سینتالیس میں ہجرت کرکے کی تھی۔  فراز قریشی، کراچی |
فراز قریشی، کراچی: الطاف حسین کا بھارت کا یہ دورہ شاید ہمارے بزرگوں کی اس غلطی کو دور کرسکے جو انہوں نے انیس سو سینتالیس میں ہجرت کرکے کی تھی۔ اگر ورلڈ پنجابی کانفرنس ہوسکتی ہے تو الطاف حسین بھارت کیوں نہیں جاسکتے؟ لال کرشن اڈوانی اپنے سندھ میں کیوں نہیں آسکتے؟ سوچنے والی بات ہے۔ نامعلوم: موصوف کی سیاست کی بنیاد لسانیت رہی ہے۔ ہمیں ان کے دورے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ فہد سعدی، دوبئی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے انڈیا کے دوسرے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان پارٹنرشپ مضبوط کرنے میں الطاف حسین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عبدالصمد، اوسلو: برطانوی شہریت حاصل کرنے کے بعد الطاف حسین کا پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ اور کہیں کانفرنس کے پس پردہ کوئی اور پلان تو نہیں۔۔۔۔ عاطف مرزا، آسٹریلیا: ان کے طرح کے رہنما صرف تیسری دنیا کے ممالک میں ہی کامیاب ہوسکتے ہیں جہاں عوام بےوقوف ہیں۔ اگر وہ بہادر ہیں تو انہیں پاکستان بھی آنا چاہئے۔ اس طرح کے لوگوں کے لئے برطانیہ ہی بہتر جگہ ہے۔
|